کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 477
ہے کہ مسلمانوں کے تعلقات اور ان کی باہمی وفاداری کی بنیاد ہی وہم و گمان اور بدظنی پر رکھ دی جائے اور محبت و نفرت یا حب و بغض کا مرکز و محور صرف ظن و گمان ہوجائے، جبکہ یہ جذباتِ محبت کو زندہ درگور کرنے اور محبت کے معانی و مقاصد کی عمارت کو گرانے کے مترادف ہے۔ بدظنی کے نتائج: بدظنی کے عام ہوجانے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں پر تہمتیں اور الزام تراشیاں عام ہوجاتی ہیں، ایک دوسرے سے اعتبار اٹھ جاتا ہے ، بغض و عداوت ، بے رخی اور قطع تعلقی کا دور دورہ ہوجاتا ہے، جو بالآخر ہمیں ہماری ہوا کے اکھڑ جانے اور ناکامیوں کا منہ دکھانے تک لے جاتا ہے۔ بدظنی کی بنیاد بعض متعدد احتمالات والے کاموں یا باتوں کی وجہ سے تخمینہ و اندازہ لگانا یا قیاس آرائی کرنا ہوتی ہے۔ بدظنی انسان کو اپنے دل میں پائی جانے والی اپنے کسی مسلمان بھائی کے خلاف تہمت کے زیرِ اثر کردیتی ہے، اب وہ اپنے گمان کو اپنے نفسیاتی رجحان اور دلی میلان کے مطابق چلاتا ہے اور بالآخر وہ جس کے بارے میں بدظنی کرتا ہے، اسے دیکھتا ہے کہ وہ اس کی خیالی تہمتوں اور ظنی الزامات کے مطابق آرہا ہے اور پھر وہ ملزم قرار دے دیتا ہے، جو صرف اپنے مسلمان بھائی کے خلاف بدظنی کرنے کا نتیجہ ہے۔ اسلامی تعلیمات: اگر اسلامی تحفہ اور سلام بدظنی میں لپٹا ہوا ہو تو یہ ایک بدترین گالی ہے اور اگر ہونٹوں پر خندہ و مسکراہٹ کے ساتھ ہی دل میں بدظنی بھی ہو تو یہ توہین و اہانت اور استہزا و مذاق ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی عطا یا داد و دہش اور مدح سرائی کی بھی ایسی ایسی تاویلیں اور تشریحات کی جا سکتی ہیں کہ جو بڑے بڑے معرکوں اور حادثات تک لے جائیں، چنانچہ اس بدظنی اور اس کے بعض نتائج کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِِثْمٌ وَّلاَ تَجَسَّسُوا وَلاَ یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا﴾ [الحجرات: ۱۲] ’’اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو ، یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور دوسروں کی عیب چینی (جاسوسی) مت کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔‘‘ اس آیت کے سیاق میں ایک ایسی بات بتائی گئی ہے جو مسلمان کی عزت و آبرو کا انتہائی