کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 476
اسلام کے اغراض و مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے۔ ایسے ہی بعض دیگر اشیا بھی اسی سے ملتی جلتی ہیں، مثلاً دلوں اور سینوں کی تمام کدورتوں سے طہارت، باہم پیار و محبت، رحم دلی و شفقت، اخوت و بھائی چارگی اور باہم الفت و عاطفت وغیرہ۔ ہمارا فرض ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارے تعلقات قوی بنیادوں اور گہری جڑوں والے رہیں۔ جب ہم لوگوں سے ملیں تو ہمارے سینے صاف اور دل پاک ہوں اور چہروں پر بشاشت و مسکراہٹ ہو۔ ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے وقت ہم ان کے بارے میں حسنِ ظن کا مظاہرہ کریں اور دوسرے لوگوں کے اقوال و اعمال اور ان کے موقف کو دیکھتے وقت اپنی آنکھوں سے کالی عینک (تعصب و تکبر کا چشمہ) اتار لیا کریں۔ جب آپ مسلمانوں کے تعلقات پر ذرا گہری نظر ڈالیں گے تو آپ کی نظریں حیران و پریشان ہوجائیں گی کہ آج کس طرح مسلمانوں کے باہمی تعلقات کشیدہ ہیں؟ ان کو باہم ملانے والے رابطے ٹوٹ چکے ہیں، جس کا واحد سبب محض بدظنی، شک اور وہم ہے۔ وہم و گمان اور بدظنی: مسلمانوں کی عام مجلسیں ہوں یا خاص میٹنگیں ( Meetings )، آپ یہ کثرت سے سنیں گے کہ فلاں کے ارادے یہ ہیں، اس کی نیت یہ ہے، اس نے اپنے فلاں قول یا عمل سے یہ کرناچاہا تھا، یہ سب بدظنی ہے جو حسد و بغض اور نفرت کے جذبات کو ہوا دینے والی ہے۔ معاشرتی تعلقات کو تباہ کرتی ہے، اخوت و بھائی چارے کو توڑتی ہے، قرابت کے رشتوں کے تار و پود بکھیرتی ہے اور معاشرے کے افراد کے دلوں میں کانٹوں کی تخم ریزی کرتی ہے، بلکہ ہم نے بہت بڑے حادثات و واقعات دیکھے اور سنے ہیں، جو صرف بے جا بدظنی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے۔ الزام تراشی اور عیب چینی: بدظنی جب دلوں میں سرایت کرجائے تو وہ الزام تراشی، عیب چینی، جاسوسی اور کیڑے نکالنے پر لگا دیتی ہے، لہٰذا آپ دیکھیں گے کہ جو بدظنی میں مبتلا ہوتا ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ ’’میں کوشش کروں گا کہ ثابت کروں‘‘ پھر اس کے لیے وہ جاسوسی کرتا ہے، غیبتیں کرتا ہے، اپنے بھائی کی برائیاں بیان کرتا ہے اور یوں وہ طرح طرح کے کئی گناہوں کے ارتکاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ خطرے کی جگہ یہی