کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 475
پہلا خطبہ بدظنی اور الزام تراشی اسلامی تعلیمات اور ہمارا طرز عمل امام و خطيب :فضيلة الشيخ عبد الباري الثبيتي حفظه اللّٰه ( خطبہ عید الفطر مدینۃ 1422 ھ ) حمد و ثنا کے بعد: گذشتہ دنوں میں ہم نے مواسمِ خیر میں موسمِ رمضان کی خیرات و برکات سمیٹی ہیں، وہ دن ہماری عمر کے حسین ترین دن تھے۔ کیا اللہ تعالیٰ سے مناجات و سرگوشیوں، اس کے حضور قیام کرنے اور اس کی کتاب کی آیات سننے سے بھی زیادہ کوئی چیز پُرلذت ہو سکتی ہے؟ جبکہ وہ آیات تو کانوں میں رس گھولتی، دل کو طہارتوں سے روشناس کرتی اور ایمان میں اضافہ و تازگی پیدا کرتی ہیں۔ جس نے اس ماہ میں عملِ صالح کا نذرانہ پیش کیا، اسے اس کی عنداللہ قبولیت مبارک ہو اور فوز و فلاح اور مغفرت و بخشش کا حصول بھی مبارک ہو اور جس نے اس ماہِ مبارک میں بھی سیاہ کاری نہ چھوڑی، وہ تو اپنی محرومیوں پر تعزیت و افسوس کا مستحق ہے، البتہ اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ موت کے منہ میں جانے سے پہلے پہلے ان کوتاہیوں کا تدارک کرلے، کیونکہ اس دن عمل صالح کے سوا کوئی چیز کام نہ آئے گا، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ . اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ﴾ [الشعراء: ۸۸، ۸۹] ’’جس دن مال و اولاد کوئی چیز فائدہ نہ دے سکے گی، فائدہ صرف وہی اٹھائے گا جو بے عیب دل لے کر اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا۔‘‘ عید اور باہمی تعلقات: عید ایک ایسا تہوار ہے، جس میں لوگوں کے باہمی تعلقات میں نکھار و مضبوطی آتی ہے، جو