کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 470
نامقبول ہونے کی واضح علامت یہ ہے کہ بندہ نیکیوں کے بعد پھر برائیوں کا ارتکاب کرنا شروع کردے۔ اے روزے دار بھائی! اس ماہِ رمضان کو سارے سال کے لیے اعمالِ صالحہ کی چابی بنالیں اور ہرحال میں اسے اپنا منہجِ حیات بنالیں، والدین کے ساتھ برّ و احسان، پڑوسیوں سے حسنِ سلوک، بھائی بہنوں سے اچھے تعلقات اور میل جول رکھنے کی کوشش کرتے رہیں، مظلوموں کی مدد کریں اور یتیموں کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی لذت پایا کریں۔ آپس میں سب صلح سلوک سے رہیں، محروموں کو کھانا کھلائیں اور شکستہ دلوں کی دلگیری کریں۔ مصائب و مشکلات میں مبتلا لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ میں اپنا حصہ ڈالیں۔ صلہ رحمی کریں، اپنے بھائیوں کی عزت و آبرو کا تحفظ کریں، جس طرح تم ماہِ رمضان میں خیر و بھلائی کا زور دار پھوٹتا چشمہ تھے، ویسے ہی سال کا باقی وقت بھی بھلائی اور محبت کا ساگر بنے رہیں۔ ہم نے ماہِ رمضان سے بڑے سبق اور پند و نصائح حاصل کیے ہیں، ہم نے اس سے یہ سیکھا ہے کہ نفسِ امارہ اور شیطانی ہوا و ہوس کا مقابہ کیسے کریں؟ اسبابِ اختلاف و تفرقہ سے کیسے چھٹکارا پائیں؟ ماہِ رمضان میں دو قالب یک جان کی طرح مسلمان متحد و متفق ہوگئے ہیں، رمضان کے بعد ان کی صفوں کا شیرازہ نہیں بکھرنا چاہیے۔ ماہِ رمضان میں آنکھیں اشکبار رہیں، آیندہ دنوں میں ان میں خشکی و قحط سالی کی کیفیت پیدا نہیں ہو جانی چاہیے۔ کلمۂ توحید اور حمد و دعا سے زبانیں تر اور مساجد گونجتی رہیں، اس ماہ کے بعد بھی یہ جلال و جمال قائم رہنا چاہیے۔ ماہِ رمضان میں آپ پر صالحین جیسی انکساری، خشوع، انابت و رجوع الی اللہ، سکون و وقار اور خشیتِ الٰہی طاری تھی، رمضان گزر جانے کے بعد بداخلاقی، تکبر، احمقانہ حرکات اور تحقیرِ حق سے اس حالت کو بدل نہ دیں۔ ماہِ رمضان میں آپ کے ہاتھ جود و سخا سے کھلے رہے اور آپ نے خوب فیاضی و سخاوت کا مظاہرہ کیا، اب رمضان گزرجانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو روک نہ لو۔ روزے دار کی دو خوشیاں: روزے دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں۔ ایک خوشی روزہ افطار کرتے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ ایک خوشی فوری طور پر اسی دنیا میں عطا کردی جاتی ہے اور ایک خوشی آخرت کے لیے رکھ لی جاتی ہے، جسے وہ شخص پائے گا جو عبادت و اطاعت پر قائم رہے گا۔ وہاں وہ عظیم