کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 47
ہوتی ہے، زمانہ کبھی ایک ہی حالت پر نہیں رہتا، بلکہ ہر معاملے کے بعد ایک دوسرا معاملہ ہوتا ہے، ہر شدت اور سختی آسانی کے ساتھ بدل کر رہتی ہے، تجھ پر غموں کے پہاڑ ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑیں، تم کبھی مایوسی اختیار نہ کرو، تنگی آسانیوں پر ہرگز غلبہ نہیں پا سکتی، عاجزی کے ساتھ اﷲ تعالیٰ سے مدد مانگو، تجھے جلد ہی فراخی اور وسعت حاصل ہوگی، جس کسی نے بھی اﷲ عزوجل پر اعتماد و بھروسا کرتے ہوئے صبر کا پیالہ پیا تو اﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے آزمایشوں اور تنگیوں سے نکلنے کا راستہ ضرور بنا دیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیٹا (یوسف علیہ السلام ) گم ہوگئے اور ان کی گمشدگی پر ایک عرصہ گزر گیا، پھر بھی انھوں نے اﷲ کی وسعت اور کشادگی سے مایوسی اختیار نہیں کی اور پھر جب ان کا دوسرا لخت جگر (بنیامین علیہ السلام ) بھی پکڑ لیا گیا تو انھوں نے اﷲ واحد و اَحد سے اپنی امید کا ناتا نہ توڑا، بلکہ اس حالت میں بھی اس کی رحمت کے امیدوار بن کر پکارا: ﴿ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِھِمْ جَمِیْعًا﴾ [یوسف: ۸۳] ’’امید ہے کہ اﷲ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا۔‘‘ مشکل کشا کون؟ سب تعریف اکیلے رب تعالیٰ کے لیے ہے اور اسی کی طرف ہماری فریاد ہے۔ جب تم پر حوادثِ زمانہ ٹوٹ پڑیں اور وہ تم پر تمام دروازے اور راستے بند کر دیں تو تم اپنی مصیبت رفع کروانے اور اپنی آزمایش ٹالنے کے لیے صرف اﷲ عزوجل سے امید باندھو اور جب رات کے اندھیرے تمھارا پیچھا کریں اور وہ اپنے پردے لٹکا دے تو رات کے ان اندھیروں میں تم اپنا چہرہ آسمان کی طرف پھیرو اور عاجزی و انکساری کے ساتھ ہاتھ بلند کرو اور اﷲ رحیم و کریم کو پکار کر کہو کہ وہ تمھارا غم دور کر دے اور تمھارے معاملے میں آسانی پیدا کر دے، جب پُرامید ہو کر پوری دل جمعی کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ دعا رد نہیں کی جاتی، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْٓئَ﴾ [النمل: ۶۲] ’’کون ہے جو لاچار کی دعاقبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اور وہی تکلیف دور کرتا ہے۔‘‘ لہٰذا تم اس قادر و قدیر ذات پر بھروسا کرو اور عاجز و ذلیل دل کے ساتھ اس کی طرف پناہ پکڑو، وہ تمھارے لیے اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے گا۔