کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 468
’’آپ فرما دیجیے کہ یقینا میری نماز، میری ساری عبادت، میرا جینا اور میرا مرنا؛ یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے۔‘‘ آثارِ عبادات: اس اطاعت کی کوئی قیمت ہی نہیں جس کو ادا کرنے کا خشیت و تقویٰ کی شکل میں کوئی اثر ہی مرتب نہ ہو۔ عباداتِ رمضان کا اثر کہاں گیا؟ اگر روزہ رکھنے والا رمضان کے گزرتے ہی تلاوتِ قرآن کو ترک کر دے، نمازِ باجماعت چھوڑ بیٹھے محرمات کی بے حرمتی کرنے لگے، اس اطاعت کا اثر کیا ہوا؟ اگر سود کھانے لگے، لوگوں کے اموال ناحق بٹورنے لگے اس اطاعت کا اثر کہاں گیا؟ اگر سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرتے ہوئے رسوم و رواج کی پیروی کرنے لگے اور قانونِ الٰہی چھوڑ کر خود ساختہ انسانی (مغربی) قوانین کے مطابق فیصلے کرنے لگے، صیام و قیام کا اثر کہاں گیا؟ اگر خرید و فروخت، تجارت اور کاروبار میں حیلے بازی و دھوکا دہی اور شب و روز جھوٹ بولنا نہ چھوڑے، ماہِ رمضان کا اثر کیا ہوا؟ اگر گمراہ شخص کو دین کی دعوت نہ دی، بھوکے کو کھانا نہ کھلایا اور ننگے کو کپڑا نہ پہنایا اور ساتھ ہی صدقِ دل اور خشوعِ قلب کے ساتھ یہ دعائیں نہ کیں تو روزے کا اثر کہاں ہے؟ اللہ اسلام اور مسلمانوں کی مدد و نصرت فرمائے اور اعداے دین و دشمنانِ اسلام کا ستیاناس کرے۔ روزے دارو! ہمیں علامہ ابنِ قیم رحمہ اللہ کے مندرجہ ذیل کلام پر غور کرنا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’عمل اور دل کے مابین ایک فاصلہ ہے، اور اس مسافت میں کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں، جو عمل کے دل تک پہنچنے میں حائل ہوجاتی ہیں اور بندہ چاہے کتنا ہی کثیر العمل کیوں نہ ہو، اس کے اعمال کا کوئی اثر دل تک نہیں جاتا اور دل میں حبِ الٰہی، خوفِ خدا، امید، دنیا سے بے رغبتی، زہد، اور آخرت میں دلچسپی و رغبت پیدا نہیں ہوتی اور نہ اس کے دل میں وہ نور و ضیا اور روشنی جنم لے پاتی ہے جس کے ذریعے وہ اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان میں فرق و تمییز کرسکے۔ اگر اعمال کا اثر دل تک پہنچ جائے تو وہ منور ہوجاتا اور کھل اٹھتا ہے اور حق و باطل دونوں کو الگ الگ پہنچاننے لگتا ہے۔‘‘[1] اے عبادت گزارو! اللہ کو عبادت کے نام پرکی جانے والی صرف چند حرکات یا جہد و مشقت [1] مدارج السالکین (۱/ ۳۴۹)