کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 463
سے لے کر نماز عید ادا کرنے تک پوری رات کے دوران میں اور عید کے لیے جاتے ہوئے تکبیرات پڑھنا مشروع ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ﴾[البقرۃ: ۱۸۵] ’’وہ (اللہ) چاہتا ہے کہ تم گنتی (روزوں کی) پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں (تکبیرات) بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔‘‘ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ تکبیریں پڑھا کرتے تھے: (( اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ )) [1] ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اﷲ سب سے بڑا ہے، اور ہر قسم کی تعریفیں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے، اس کی عبادت کا اظہار کرنے اور اللہ کی تعظیم کا اعلان کرنے کے لیے مردوں کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ مساجد، بازاروں اور گھروں میں بلند آواز سے تکبیریں کہیں۔ صدقۂ فطر (فطرانہ): برادرانِ اسلام! آپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے صدقۂ فطر (فطرانہ) مشروع کیا ہے۔ یہ روزے دار سے سرزد ہونے والی لغویات وغیرہ سے طہارت کا ذریعہ اور مساکین کے لیے روزی روٹی کا باعث ہے۔ یہ ایک صاع (2.5کلو گرام) جو، کھجور، منقا اور چاول وغیرہ غلے سے دینا ہے۔ صدقۂ فطر چھوٹے بڑے، نر مادہ اور آزاد و غلام؛ ہر مسلمان پر واجب ہے۔ اس کے ادا کرنے کا وقتِ فضیلت نمازِ عید سے قبل ہے، اور عید سے دو ایک دن پہلے بھی ادا کرنا جائز ہے، البتہ عذر کے بغیر نمازِ عید سے قبل تاخیر کرنا جائز نہیں۔ زیب و زینت: مردوں کے لیے عید گاہ کی طرف جانے سے قبل غسل کرنا اور خوشبو لگانا مستحب ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: [1] مصنف ابن أبي شیبۃ (۱/ ۴۸۸) المعجم الکبیر للطبراني (۹/ ۳۰۷)