کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 462
وہ سونے کی تاروں اور ریشم سے تیار کردہ ہوگا اور اگر ان کے بستروں کے بارے میں پوچھیں تو وہ ایسے ہونگے کہ ان کا استر بھی استبرق کا ہوگا اور وہ بلند مراتب پر بچھائے گئے ہوں گے۔ اہلِ جنت کے چہروں اور ان کے حسن و جمال کے بارے میں پوچھیں تو وہ چودھویں کے چاند کی طرح خوبصورت ہوں گے اور اگر ان کی عمر کے بارے میں سوال کریں تو وہ تمام ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت میں تینتیس تینتیس (۳۳، ۳۳) سال کی عمر کے بھرپور جوان ہوں گے۔ اے اللہ! اے ارحم الراحمین! ہم سب کو اہلِ جنت میں سے بنا۔ وداعِ رمضان: آجکل دنیاے اسلام اور امتِ اسلامیہ ماہِ رمضان کو الوداع کہنے والی ہے، لیکن وہ اپنے خونیں مصائب و آلام کو الوداع نہ کہہ سکے۔ امت گہرے زخموں سے چور اور مصائب کے دن گزار رہی ہے۔ امت کے زخم ارضِ مقدس فلسطین و شام اور دیگر ممالک میں رستے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک ایسی جنگ جاری ہے جو انتہائی درندگی بردوش ہے۔ تمام اخلاقی حدود اور عالمی قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر مسلمانوں، اسلام اور اس کے سرچشموں کو ختم کرنے کے لیے یہ جنگ جاری رکھی گئی ہے۔ امت کو طرح طرح کے دھوکوں اور سخت مشکلات میں مبتلا کردیاگیا ہے۔ اگر یہ سب کچھ نہیں بلکہ اس سب کچھ کا ایک حصہ بھی غیر مسلم قوم پر گزرتا تو وہ پوری قوم دنیا ہی سے مٹ جاتی، لیکن عقیدہ و ایمان کی قوت ایسی چیز ہے کہ اس کے سرچشمے تمام تر مشکلات و مصائب کے باوجود بھی تازہ ہوتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لیے روشن و تابناک مستقبل کی قوی امیدیں ہیں۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ امتِ اسلامیہ کے مسائل کی مدد و نصرت پر کمر بستہ رہیں، صبر و ضبطِ نفس سے کام لیں، پرخلوص دعائیں کریں اور سخت طوفانوں کے سامنے صرف اللہ ہی سے مدد طلب کرتے رہیں۔ تمام مشکلات و مصائب چھٹ جانے تک دعائیں جاری رکھیں جو سب ایک دن چھٹ جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے معمولی امر ہے، اس کے لیے یہ کوئی بڑی بات ہرگز نہیں ہے۔ عید کے شب و روز: عنقریب پوری امتِ اسلامیہ رمضان کے اختتام پر ایک تقریب اور عید کی خوشیاں منانے والی ہے۔ عید کے شب و روز کے دوران میں بعض قولی و عملی امور مستحب ہیں، مثلاً: ہلالِ عید دیکھنے