کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 460
پانچواں خطبہ الوداع .... اے ماہ رمضان امام و خطيب :فضيلة الشيخ عبد الباري الثبيتي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اللہ کے بندوں کی طرف عَلمِ جنت بلند کیا گیا تو انھوں نے حصولِ جنت کے لیے کمرکس لی۔ ان کے لیے سیدھا راستہ واضح کیا گیا تو وہ اس پر استقامت کے ساتھ چل دیے، کیوں کہ انھیں یقین ہے کہ سارے کا سارا منافع صرف اسی میں ہے کہ جب وہ اللہ کے حضور جمع کیے جائیں تو انھیں وہاں سرخروئی حاصل ہو۔ ان کے قلب و جان اس بات کے مشتاق ہیں کہ وہ اس جنت کو پالیں جس کے اللہ تعالیٰ نے وعدے کیے ہیں: ﴿ جَنّٰتِ عَدْ نِ الَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بِالْغَیْبِ اِنَّہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا﴾[مریم: ۶۱] ’’ہمیشگی والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعدہ اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے، بے شک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔‘‘ وہ جنتیں جن میں اقامت دائمی ہوگی، دنیاوی جنات و باغات کی طرح محض عارضی اقامت نہیں ہوگی۔ ان جنتوں کا اللہ نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے اور اللہ کے وعدے میں کوئی خلاف ورزی نہیں، وہ لا محالہ ان جنتوں میں جائیں گے۔ نعیمِ جنت کے چند اوصاف: وہ جنت ایسی ہے کہ اگر کسی کو اس میں صرف ایک نظر ڈال لینے دی جائے، تو اسے تمام مایوسیاں اور دکھ غم بھول جائیں گے، جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: