کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 459
کو بخش سکتا ہے؟ اور وہ لوگ جان بوجھ کر کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے۔ انھیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان نیک کام کرنے والوں کا ثواب کیا ہی اچھا ہے۔‘‘ یہ اللہ کی رحمت و حکمت اور اس کے علم و قدرت کا احاطہ ہے کہ اس نے ہمارے لیے فضیلت والے مہینے، شرف و عظمت والے شب و روز اور خیر و برکت والی گھڑیاں بیان کردی ہیں، تاکہ ہم ان میں اللہ کی مشروع کردہ اطاعت و عبادت کرکے اس کی رضا و رحمت اور خیروبرکت حاصل کرسکیں۔ جس نے خلوصِ نیت اور عمل بالسنہ کے ساتھ اللہ کا دروازہ کھٹکھٹایا، اللہ اس کے لیے اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس ماہ میں فضیلت والی راتوں اور عزت و شرف والی گھڑیوں میں سے ایک لیلۃ القدر بھی ہے، جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں فرما کر اس کی قدر و منزلت کو چار چاند لگا دیے ہیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ . وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ . لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ﴾ [القدر: ۱ تا ۳] ’’ہم نے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اور آپ کو کیا معلوم ہے کہ یہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار ماہ سے بہتر ہے۔‘‘ یعنی اس ایک رات کی عبادت ان ایک ہزار ماہ سے بھی بہتر ہے، جن میں یہ لیلۃ القدر نہ ہو۔ ایک حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ )) [1] ’’جس نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس سے حصولِ ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کرلیا، اس کے پہلے تمام گناہ معاف ہوگئے۔‘‘ یہ رات ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں (۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷، ۲۹) میں ہے۔[2] سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد للّٰه رب العالمین۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۴۰۳) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۰۲۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۷۴)