کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 456
ہیں۔ یہی ہے ان لوگوں کی مثال جو دین کا علم حاصل کرتے اور دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں، علم سیکھتے اور دوسروں کو سکھاتے ہیں اور ان لوگوں کی جو علم و ہدایت کے لیے سر اٹھاتے ہیں نہ سیکھتے اور نہ اسے قبول کرتے ہیں جو میں لے کر آیا ہوں۔‘‘ تلاوت و تدبرِ قرآن: اللہ کے بندو! ماہِ رمضان کے بقیہ حصے کو اپنے لیے غنیمت سمجھو۔ یہ مہینا ماہِ قرآن ہے۔ اس میں کثرت سے تلاوتِ قرآن کریں، اس کے معانی و مفاہیم پر تدبّر و تفّکر کریں اور اس کے اوامر و نواہی پر عمل کریں۔ سلف صالحینِ امت اس ماہ میں تلاوتِ قرآن کے لیے دیگر علمی امور سے فارغ ہوجاتے تھے، اور ذکرِ الٰہی سے رطب اللسان رہتے۔ ان میں سے بعض لوگ ماہِ رمضان میں صرف سات دنوں میں قرآن ختم کردیتے تھے، بعض صرف تین ہی دنوں میں ختم کر دیا کرتے تھے اور بعض صرف ایک ہی رات میں قرآن ختم کردیا کرتے تھے۔[1] اصحابِ قرآن: جس نے قرآنِ کریم پر عمل کیا، وہ اصحابِ قرآن میں سے ہے، چاہے وہ قرآن کا حافظ نہ بھی ہو، اور جس نے قرآن پر عمل نہ کیا وہ اصحابِ قرآن میں سے نہیں ہے، چاہے وہ اس کا حافظ ہی کیوں نہ ہو۔ جو شخص قرآن کے بعض حصوں کا حافظ ہو، اسے چاہیے کہ حفظ کیے ہوئے حصے کو کثرت اور تکرار سے پڑھتا رہے۔ جود و سخا: مسلمانو! اس فضیلت و برکت والے مہینے میں کثرت سے نیکیاں کرو، فقرا و مساکین اور محتاجوں پر احسان کرو، کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عملِ مبارک تھا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر سال میں ایک مرتبہ ماہِ رمضان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری سال میں دو مرتبہ دور کیا۔[2] جن دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کیا کرتے تھے، ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جود و سخا کا عالم یہ ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہواؤں سے بھی سخاوت میں بڑھ جاتے تھے۔[3] [1] یہ روایت (ایک رات میں ختمِ قرآن) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے ، مگر اس روایت کی سند صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ حجت ہے۔ [مترجم] [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۴۵۰) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۲۲۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۰۸)