کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 454
تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾ [آل عمران: ۱۱۰] ’’تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہو کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر تھا، ان میں مومن بھی ہیں لیکن اکثر فاسق ہیں۔‘‘ پوری تاریخِ انسانیت میں امتِ اسلامیہ سے زیادہ رحم دل ، عدل پسند اور خوش معاملہ دوسری کوئی امت نہیں گزری۔ مسلمانو! اس وقت تم اس بات کے شدید ضرورت مند ہو کہ اپنے آپ کو ان صفات سے متصف کرو جن پر عمل پیرا ہونے کی قرآن نے دعوت دی ہے ، اس کے اوامر کی اطاعت ، اس کے نواہی سے دوری ، اس کے حلال کردہ امور و اشیا کو حلال ماننا اور حرام کردہ کو حرام سمجھنا ، اس کی محکم آیات پر عمل اور اس کی متشابہات پر ایمان لانا تمھارے لیے سخت ضروری ہے ۔ قرآنِ کریم انسان کے لیے پھل پھول تب لاتا ہے، وہ اسے جادۂ حق پر تب چلاتا ہے اور اسے اپنے رنگ میں تب رنگتا ہے جب نفسِ انسانی اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو، دل اس کے انوار کی آماج گاہ بنیں اور انسانی جسم کے تمام اعضا اس کی ترغیب و ترہیب اور وعدہ و وعید کو پوری خشیتِ الٰہی اور خشوع و خضوع کے ساتھ قبول کریں، جیساکہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُھُمْ وَقُلُوْبُھُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ﴾ [الزمر: ۲۳] ’’اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور باربار دہرائی ہوئی آیات کا مجموعہ ہے، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں، پھر ان کے جسم و جان اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہوجاتے ہیں، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعے وہ جسے چاہے راہِ راست پر لگا دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راہ بھلا دے، اس کا کوئی ہادی (راستہ دکھانے والا) نہیں۔‘‘