کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 453
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم کو اپنے بندوں پر رحمت کرتے ہوئے ایک معجزہ بنا کر نازل فرمایا ہے، تاکہ انھیں معلوم ہو کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ حقیقی معبود اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حقیقی رسول ہیں، کیونکہ قرآنِ کریم سب سے بڑی دلیل ہے، جو ہمیں ہمارے رب کی صفات کی خبر دیتی ہے، اور یہی قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اللہ کی واجبی صفاتِ کمال کیا کیا ہیں اور کن کن بلکہ کل نقائص و عیوب سے اس کی ذات گرامی پاک و منزّہ ہے جو اس کی جلالت کے لائق ہی نہیں ہیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ﴾ [الجاثیۃ: ۶] ’’یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنھیں ہم آپ کو حق و راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ اور دوسری جگہ فرمایا ہے: ﴿ تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۲۵۲] ’’یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں، جنھیں ہم حقانیت کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں۔ یقینا آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ جو شخص قرآنِ کریم اور اس کے معجزہ ہونے پر ایمان نہیں رکھتا، وہ خوارق عادات اور مشاہدۂ آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ وہ قرآن کے نظمِ بدیع میں اس کے اعجاز، اس کے حکیمانہ و دانشمندانہ قوانین، سننِ کون اور اسرارِ خلق پر اس کے دلائل، بشری اجتماعیت کی سنن کے لیے اس کے بیان، اس کی تعلیمات کے کامل و شامل ہونے، ماضی و مستقبل کی صحیح و سچی خبریں دینے، اس کے اغراض و مقاصد کی رفعت و بلندی اور انسان کی تمام جوانب و نواحی سے مکمل تہذیب و تربیت میں اعجاز القرآن کا صحیح ادراک حاصل کر سکتا ہے۔ خیر الامم: امتِ اسلامیہ کو لوگوں کے لیے بپا کیا گیا ہے اور وہ اسی قرآنِ کریم ہی کی بدولت ’’خیر الامم‘‘ (تمام امتوں میں سے بہترین امت) قرار پائی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ