کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 452
لاسکا، اور اگر یہ سب مل کر بھی کوشش کریں تو اس قرآنِ عظیم جیسا معجزہ قیامت تک نہیں لا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے چیلنج کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿ قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَ لَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا﴾ [الإسراء: ۸۸] ’’کہہ دیجیے (اے نبی!) کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر بھی اس قرآن کی مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کی مثل لانا ناممکن ہے، گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو جن و انس کے دونوں جہانوں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اس قرآن کی صرف دس سورتوں کی مثل ہی لے آئیں، مگر وہ ایسا ہرگز نہ کر سکیں گے، چنانچہ ارشاد فرمایا ہے: ﴿ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴾ [ھود: ۱۳] ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو خود اسی (محمد) نے اپنی طرف سے گھڑلیا ہے۔ انھیں جواب دیجیے کہ پھر تم بھی اس کی مثل صرف دس سورتیں ہی گھڑی ہوئی لے آؤ۔ اور اللہ کے سوا جسے بھی چاہو اپنے ساتھ ملا لو۔ اگر تم سچے ہو۔‘‘ (تو یہ کر دکھاؤ) ایک دوسرے مقام پر اس چیلنج کو اتنا مختصر کر دیا کہ کم از کم صرف ایک سورت ہی اس کے مثل لے آؤ، مگر وہ اس سے بھی عاجز آگئے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَ ادْعُوْا شُھَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ . فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۲۳، ۲۴] ’’اور اگر تمھیں اس میں شک ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے (کہ وہ اس کا اپنا ساختہ و پرداختہ ہے) تو تم اگر سچے ہو تو صرف ایک سورت ہی اس کی مثل لے آؤ، اس اللہ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو اور تم ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو پھر اس نارِ جہنم سے ڈرو، جس کا ایندھن لوگ (انسان) ہوں گے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘