کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 451
’’جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وہ بہکے گا نہ شقاوت و تکلیف میں رہے گا، اور ہاں جو میری یاد سے روگردانی کرے گا، اس کی زندگی اجیرن (تنگی میں ) رہے گی اور ہم اسے روزِ قیامت اندھا اٹھائیں گے۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ’’تَکَفَّلَ اللّٰہُ لِمَنْ عَمِلَ بِالْقُرْآنِ أَلَّا یَضِلَّ فِي الدُّنْیَا وَلَا یَشْقیٰ فِي الآخِرَۃِ‘‘[1] ’’اللہ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ جو شخص قرآن پر عمل کرے گا ، وہ نہ تو دنیا میں بہکے یا گمراہ ہوگا اور نہ آخرت ہی میں وہ شقاوت و بدبختی میں مبتلا ہوگا۔‘‘ معجزۂ قرآن: قرآنِ کریم ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم معجزہ ہے جو دائمی و ابدی ہے۔ یہ قرآن بشری نسلوں کو مخاطب کرتا ہے اور قیامت تک کرتا رہے گا۔ یہ عقلِ انسان کو طرح طرح کے دلائل و براہین کے ذریعے قائل کرتا ہے، تاکہ انسان حق کو قبول کرے اور اپنی مرضی اور اختیار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ اگر وہ حق سے اعراض کرے تو وہ بھی حق کو پہچان لینے کے بعد محض تکبر و انکار کے نتیجے میں ہو اور اللہ تعالیٰ کی حجت اس پر قائم ہوجائے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ إِلَّا أُوْتِيَ مَا مِثْلُہٗ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ ، وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِيْ أُوْتِیْتُہٗ وَحْیًا، فَأَرْجُوْ أَنْ أَکُوْنَ أَکْثَرَھُمْ تَابِعًا )) [2] ’’جتنے بھی انبیا کو اللہ نے مبعوث فرمایا ہے، ان میں سے ہرکسی کو ایسی چیز دی گئی جس پر پہلے بھی بشر کا ایمان تھا، جبکہ مجھے وحی سے نوازا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ پیروکار میرے ہی ہوں گے۔‘‘ قرآن کا چیلنج: قرآنِ کریم وہ معجزۂ خالدہ ہے کہ جن و انس میں سے آج تک کوئی بھی اس جیسی کتاب نہیں [1] تفسیر الطبري (۱۶/ ۲۲۵) مصنف ابن أبي شیبۃ، رقم الحدیث (۳۴۷۸۱) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۹۸۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۵۲)