کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 449
ہے کہ وہ اکیسویں رات (بیسویں روزے کے) سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اپنی جائے اعتکاف میں داخل ہوجائے۔ مصائب اور دعائیں: مسلمانو! تمھارے عقیدے و دین کے رشتے سے کچھ بھائی ابتلا و آزمایش اور مصائب و مشکلات میں مبتلا ہیں، ان کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، دشمن ان پر ٹوٹ پڑے ہیں، انھیں قتل و غارت، اذیت و عذاب اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کسی ضعیف البدن بوڑھے کو، کمزور و لاغر بیمار کو، عیال دار آدمی کو، معصوم و بے قصور اور مصائب و ہولناکیوں میں ناچار آنسو بہانے والی عورت کو، کسی کو بھی کسی بھی قسم کے حالات کے تحت معاف نہیں کیا جا رہا۔ ان لوگوں کے لیے پوری عاجزی و انکساری کے ساتھ دستِ دعا دراز کرو اور اللہ سے اپنی طرح طرح کی عبادتوں اور اپنی اطاعت کا واسطہ دے کر دعائیں کرو کہ وہ تمھارے ضعیف و بے کس اور بے گھر بھائیوں پر رحم فرمائے، اور انھیں کافر قوم سے نجات دلائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( إِنَّ لِکُلِّ مُسْلِمٍ فِيْ کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ دَعْوَۃً مُسْتَجَابَۃً )) [1] ’’ہر مسلمان کی ہر دن اور ہر رات میں ایک دعا قبول کی جاتی ہے۔‘‘ اللہ کو دعا سے زیادہ پیاری چیز کوئی نہیں اور لوگوں سے سب سے کمزور وہ ہے جو دعا کرنے سے بھی عاجز آگیا ہو اور تقدیر کو صرف دعا ہی بدل سکتی ہے۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد للّٰه رب العالمین۔ [1] مسند أحمد (۲/ ۲۵۴)