کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 446
جہنم سے آزادی کا مہینا: مسلمانو! ماہِ رمضان جہنم کی آگ سے گلو خلاصی کا مہینا ہے، یہ شقاوت و بدبختی، ذلت و رسوائی اور حرماں نصیبی سے چھٹکارے کا مہینا ہے۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ عِنْدَ کُلِّ فِطْرٍ عُتَقَائُ )) [1] ’’ہر روز افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔‘‘ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی ہے: (( إِنَّ لِلّٰہِ ۔تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ۔ عُتَقَائَ فِيْ کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ )) [2] ’’ماہِ رمضان کے ہر دن اور ہر رات میں اللہ تعالیٰ لاتعداد لوگوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔‘‘ لہٰذا بھر پور کوشش کرکے اپنی گردنوں اور اپنے جسموں کو جہنم سے آزاد کروا لو اور اپنے نفسوں کو اللہ سے اس کی عبادت کے عوض خرید لو۔ مسلمانو! یہ توبہ و استغفار، عجز و انکساری اور گڑگڑانے اور اللہ کے در کے فقیر و سوالی بننے کا وقت ہے۔ یہ طلبِ غفران اور انابت و رجوع الی اللہ کا مہینا ہے، یہ اس صاحبِ فضل و کرم سے قبولیت حاصل کرنے کا مہینا ہے جس کا دروازہ کھٹکھٹانے والا کبھی مایوس نہیں لوٹا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز اور کلامِ فصیح و بلیغ میں فرمایا ہے: ﴿ ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا﴾ [التحریم: ۸] ’’اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی و خالص توبہ کرلو۔‘‘ توبہ کا ارادہ کرو تو بابِ توبہ کو ہمیشہ کھلا ہی پاؤ گے۔ جنت کی قیمت بدن و روح دونوں سے ادا کرو اور جب تک مہلت اور موقع ملے، اللہ کی طرف لو لگا کر رکھو۔ توبہ اور بخشش کا مہینا: اللہ کے بندے! تیرے گناہوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ وہ آسمان کو چھونے لگے ہیں اور [1] مسند أحمد (۵/ ۲۵۶) المعجم الکبیر (۸/ ۲۸۴) [2] مسند أحمد (۲/ ۲۵۴)