کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 445
مرتبہ مکمل قرآن کریم کا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دور کیا تھا۔[1] عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ کو موت آنے لگی تو ان کی بیٹی رونے لگی۔ انھوں نے اس سے کہا: ’’اے میری بیٹی! رو نہیں، میں نے اس گھر میں چار ہزار مرتبہ قرآنِ پاک ختم کیا ہے۔‘‘[2] کیا خوب وہ قوم تھی اور کیا خوب ان کا عمل تھا!! قرآن کے مطابق فیصلے: امتِ اسلامیہ! یہ قرآنِ کریم تمھارے مابین پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ اگر یہ پہاڑوں پر نازل کیا گیا ہوتا تو وہ بھی خوفِ الٰہی سے پست ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے۔ کیا ہم قرآن کے بیان کردہ منہاجِ مطہر پر چلے؟ کیا ہم نے اسے اپنی زندگی کے تمام پیش آمدہ مسائل میں نافذ کیا؟ کیا ہم نے اسے اپنے ظاہری اور پوشیدہ امور میں اپنا حَکم و فیصل بنایا؟ ہر چھوٹا یا بڑا فعل اور ہر وہ تبدیلی و تغیر جو کتاب و سنت سے متناقض ہوگا، وہ فاعل کے لیے وبال و حسرت اور باعثِ شر ہوگا۔ جن لوگوں نے قرآن و سنت کو اپنا فیصل نہ بنایا، انھیں ہم نے ایسے عذاب میں مبتلا اور ایسی سزاؤں میں پھنسے دیکھا ہے، جو باعثِ زجر و توبیخ اور ذریعۂ عبرت ہیں، لہٰذا قرآنِ کریم کو پوری قوت سے پکڑ لو اور اسے اپنے لیے باعثِ عزت جانو۔ فرائض ادا کرنے سے تمھیں اس مادی دنیا کی مشغولیات نہ روک دیں، یہ پوری دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی درجہ نہیں رکھتی۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ﴾ [المائدۃ: ۴۴] ’’اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی (قرآن) کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہ پکے کافر ہیں۔‘‘ ﴿ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾ [المائدۃ: ۴۵] ’’اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی (قرآن) کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ ﴿ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾ [المائدۃ: ۴۷] ’’اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی (قرآن) کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہ فاسق (بدکار) ہیں۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۹۹۸) [2] تاریخ بغداد (۹/ ۴۲۰)