کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 444
کہتے ہیں کہ جو تکرار کے ساتھ بار بار ہوگا وہ ٹھہر جائے گا اور جو تکرار کے ساتھ نہ ہوگا وہ قرار نہ پا سکے گا۔ مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے تمھیں یہ کتابِ مبارک دے کر ایک عظیم شرف سے نوازا ہے، اس کی آیات پر تدبّر اور اس کی بیّنات پر تفکر کرتے رہا کرو، اس کی پند و نصائح کو قبول کرو، تدبّر و تفّکر کے بغیر تیز تیز قرآن پڑھنے والے نہ بنو۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے انھیں بتایا کہ وہ ایک ہی رکعت میں سورت ق یا حجرات سے تا آخر قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ’’جلدی جلدی تدبّر کے بغیر پڑھا ہوگا جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں، بیشک کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، ہاں! اگر قرآن کی تلاوت کا اثر دل پر واقع ہو اور اس میں ثبت ہو جائے تو وہ قراء ت و تلاوت فائدہ مند ہے۔‘‘[1] نیز انہی کا قول ہے: ’’قرآن کو شعروں کی طرح جلدی جلدی تدبر کے بغیر نہ پڑھو اور نہ اسے خراب کی طرح بکھیرو (جو خشکی و سختی کی وجہ سے باہم مربوط نہیں ہوتی) بلکہ اس میں نازل شدہ عجائبات پر غور کرو، اس کے ساتھ دل کو حرکت دو اور تم میں سے کسی کی ساری کوشش صرف سورت کے آخر تک پہنچ جانے کی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘[2] تلاوتِ قرآن اور سلفِ امت: سلف صالحینِ امت ۔رضي اللّٰه عنہم أجمعین۔ کثرت سے ختمِ قرآن کیا کرتے تھے۔ جب رمضان آتا تو اس ماہ کی فضیلت و شرف کی وجہ سے وہ اس میں اور بھی بڑھ جاتے تھے۔ ماہ رمضان کی ہر رات حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دَور کرتے تھے۔[3] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سال میں جبرائیل علیہ السلام نے دو [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۲۲) [2] مصنف ابن أبي شیبۃ، رقم الحدیث (۸۷۳۳) شعب الإیمان، رقم الحدیث (۲۰۴۱) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۰۸)