کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 443
’’اگر کوئی شخص امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور آخر تک اس کے ساتھ ہی رہتا ہے تو اس کے لیے اس پوری رات کے قیام کا ثواب لکھا جاتا ہے۔‘‘ تلاوت و تدبّرِ قرآن: مسلمانو! ماہِ رمضان، ماہِ تلاوت و نزولِ قرآن ہے۔ اس میں قرآنی آیات پر تدبر و تفکّر کرنا چاہیے، قرآن کے الفاظ کا معنیٰ و تفسیر پڑھنا چاہیے اور قرّا و حفاظِ قرآن جیسے اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے، حفظ کیے ہوئے قرآن کو بار بار دہرانے، تکرار کے ساتھ اس کا دور کرنے اور شب و روز کثرت سے پڑھنے کے ذریعے مزید حفظ و ضبط میں لانا چاہیے، جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے: (( اِسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ فَلَھُوَ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُوْرِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعْمِ بِعُقْلِھَا )) [1] ’’قرآن کو یاد کرتے رہا کرو، یہ رسی کے بغیر باندھے گئے جانور سے بھی زیادہ جلدی سے لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے والا ہے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( تَعَاھَدُوا الْقُرْآنَ، فَوَ الَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَھُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْإِبِلِ فِيْ عُقْلِھَا )) [2] ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، حافظِ قرآن کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اونٹ کے گھٹنے کو رسی باندھی ہوئی ہو، اگر وہ اسے پکڑے رکھے گا تو وہ اس کے پاس رہے گا اور اگر وہ اس رسی کو کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔‘‘ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’إِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَہٗ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ ذَکَرَہٗ، وَإِذَا لَمْ یَقُمْ بِہٖ نَسِیَہٗ‘‘[3] ’’اگر حافظِ قرآن شب و روز اسے پڑھتا اور یاد کرتا رہے گا تو وہ اسے یاد رہے گا اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اسے بھلا دے گا۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۰۳۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۹۰) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۰۳۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۹۱) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۸۹)