کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 442
صالحین تو ماہِ رمضان کی راتوں میں قیام کر رہے ہیں، اللہ کا خوف ان کے دلوں پر چھا چکا ہے، جس سے ان کی آنکھوں کی نیند اچاٹ ہوگئی ہے۔ خوفِ الٰہی سے ان کی آنکھیں اشکبارہیں، آنسووں کی برسات برسا رہی ہیں، اس کے خوف ہی سے ان کے دل پسیجے ہوئے اور انتہائی نرم ہوگئے ہیں، راتوں کی تاریکیوں میں جب لوگ محوِ خواب یا سوئے ہوئے ہوتے ہیں تو وہ اللہ کی عبادت میں محو و مگن ہوتے ہیں، وہ صالح لوگ ہیں، وہ عمداً گناہ پر گناہ کرتے چلے جانے والے عادی گناہ گار و فاجر نہیں ہیں۔ اپنے خالق کی نافرمانی میں رات گزارنے والے! رمضان کی مبارک راتوں کو حرام امور و اشیا اور گناہوں سے لت پت کرنے والے! کس قدر نقصان و خسارے کی بات ہے کہ اس سے بڑھ کر دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ تم اہلِ ایمان و یقین، توبہ تائب ہونے والوں کی جماعت اور مغفرت و بخشش طلب کرنے والوں کے قافلے دیکھتے ہو جو رات کی گھڑیوں میں اللہ کا قرب و رضا پاگئے، مگر تم ٹس سے مس نہ ہوئے اور راندۂ درگاہ اور حرماں نصیب ہی رہے۔ اب بھی وقت ہے، اس جاتے ہوئے رمضان ہی کو صحیح معنوں میں پالو، لہو و لعب کو ایک طرف چھوڑو، کاروانِ صالحین میں مل جاؤ اور عبودیت و بندگی کی منازل طے کرنے کے لیے فرائض و نوافل ادا کرنے میں جُٹ جاؤ، زندگی کو اپنے پروردگار کی عبادت سے معمور کردو، ماہِ رمضان کے بقیہ ایام میں نمازِ تراویح پڑھو اور قیام اللیل کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جس نے ایمان کی حالت میں حصولِ رضا و ثواب کے لیے ماہِ رمضان میں قیام اللیل کا اہتمام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخشے گئے اور جس نے لیلۃ القدر کا ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لیے قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخشے گئے۔‘‘[1] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلّٰی مَعَ الْإِمَامِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ حُسِبَ لَہُ قِیَامُ لَیْلَۃٍ )) [2] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۷، ۲۰۱۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۵۹، ۷۶۰) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۳۷۵) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۸۰۶) سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۶۰۵) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۳۲۷)