کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 441
(( مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ وَالْجَھْلَ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِيْ أَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ )) [1] ’’جس نے جھوٹ بولنا، اس پر عمل کرنا اورجاہلانہ رویہ نہ چھوڑا، اﷲتعالیٰ کو اس کے محض کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ ایک اور حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( رُبَّ صَائِمٍ حَظُّہٗ مِنْ صِیَامِہِ الْجُوْعُ وَالْعَطَشُ )) ’’کئی روزے دار وہ ہیں جنھیں روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا (کوئی اجر و ثواب ) نہیں ملتا۔‘‘[2] سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (( إِذَا صُمْتَ فَلْیَصُمْ سَمْعُکَ وَبَصَرُکَ وَلِسَانُکَ عَنِ الْکَذِبِ وَالْمَأْثَمِ، وَدَعْ أَذَی الْخَادِمِ، وَلْیَکُنْ عَلَیْکَ وَقَارٌ وَسَکِیْنَۃٌ یَوْمَ صِیَامِکَ، وَلَا تَجْعَلْ یَوْمَ فِطْرِکَ وَیَوْمَ صِیَامِکَ سَوَائً )) [3] ’’جب تم روزہ رکھو تو تمھارے کانوں، آنکھوں اور زبان کا بھی (جھوٹ اور محارم سے) روزہ ہونا چاہیے، پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائیں، تم پر ایک سکون و وقار نظر آنا چاہیے۔ اپنے روزے کے دن اور روزے کے بغیر والے دن کو ایک جیسا نہ کر دو۔‘‘ صالحین کا راستہ: اللہ کے بندے! مسلم قوم اعمالِ صالحہ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور تم ہاتھوں پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہو۔ وہ قربِ الٰہی پانے میں مشغول ہیں اور تو دور بیٹھا ہے۔ وہ راتوں کو قیام کرتے ہیں اور تو سویا رہتا ہے۔ وہ نصیحت قبول کر رہے ہیں اور تم بھگوڑے بن رہے ہو۔ بندے قیام میں ہیں جبکہ تم ان میں نہیں ملتے، اگر نیک و صالح لوگوں کو دیکھیں تو تم ان میں سے بھی نہیں پائے جاتے۔ تم کھوٹے سکّے سے مال خریدنے اور نجات پانے کے چکر میں لگتے ہو۔ نہ نماز، نہ دعا و مناجات، نہ توبہ و انابت اور نہ صدق و صفاے قلب، آخر یوں نجات کیسے پاؤ گے؟ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۹۰۳) [2] مسند أحمد، رقم الحدیث (۸۸۵۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۶۹۰) [3] الزھد لابن المبارک، رقم الحدیث (۱۳۰۸) مصنف ابن أبي شیبۃ، رقم الحدیث (۸۸۸۰)