کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 440
(( إِنَّ جِبْرِیْلَ أَتَانِيْ فَقَالَ: مَنْ أَدْرَکَ شَھْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ یُغْفَرْلَہٗ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ قُلْ: آمِیْنَ فَقُلْتُ: آمِیْنَ ۔۔۔ )) [1] ’’میرے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ جو شخص رمضان کا مہینا پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو اور جہنم میں ڈالا جائے، اسے اللہ اپنی رحمتوں سے دور کرے، آپ کہیے: آمین، تو میں نے کہا تھا: آمین ۔۔۔۔‘‘ کوتاہی چھوڑو: ماہِ رمضان میں کوتاہی کرنے والو! کیا تمھیں یقین ہے کہ تمھاری زندگی میں پھر بھی یہ مہینا ضرور آئے گا اور تم اس آنے والے رمضان تک زندہ رہوگے؟ اس ماہ کے حقوق ادا کرو اور اپنے ظاہر و پوشیدہ اعمال و افعال میں اللہ سے ڈرتے رہو اور اس بات کا یقین رکھو کہ تمھارے ساتھ دو فرشتے (کراماً کاتبین) عمر بھر کے لیے لگائے گئے ہیں، جو تمھارے پل پل کے افعال کو لکھتے جا رہے ہیں، لہٰذا اپنے افعال کو اس سے پوشیدہ ہر گز نہ سمجھو، جس سے تمھاری کوئی چیز ہر گز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ روزے کے مفہوم کی وسعت اور آداب: مسلمانو! ہم سب پر واجب ہے کہ اس ماہِ رمضان کی تعظیم و تکریم کریں اور ہرگز اس کی توہین نہ کریں۔ کیا آپ نے فضول گوئی و بدنظری سے پرہیز کیا؟ اپنے اعضا کو لہو و لعب سے روکا؟ کیا آپ نے سفر پر کام دینے والا زادِ راہ تیار کر لیا ہے؟ کہیں آپ ان لوگوں میں سے تو نہیں جو اس ماہ میں بھی غلط کاری، گھٹیا روش اور اللہ کی ناراضی والے کاموں کا ارتکاب کیے چلے جاتے ہیں؟ کیا آپ ان میں سے تو نہیں جو متاعِ دنیا اکٹھی کرنے کے پیچھے ہلکان ہوئے جاتے ہیں، گویا وہ پیدا ہی اسی لیے کیے گئے ہوں؟ یا آپ ان میں سے تو نہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گمراہی کے راستے پر ڈال کر ہلاک کرنے کی ٹھان رکھی ہے؟ خبردار! ایسا ہر گز نہ ہونے پائے، اس ماہ میں اپنی آنکھوں پر کنٹرول کریں، اپنی زبان پر پہرے لگائیں اور ہر قدم پھونک کر رکھیں۔ یہ باتیں تو ہر وقت ہی واجب و ضروری ہیں، مگر ماہِ رمضان کے مقام و مرتبے کی وجہ سے ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: [1] الأدب المفرد (۶۴۶) صحیح ابن خزیمۃ، رقم الحدیث (۱۸۸۸) صحیح ابن حبان، برقم (۹۰۷)