کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 439
اﷲ تعالیٰ نے سچ ہی فرمایا ہے: ﴿ وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَاْئِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ . کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ﴾ [الأنبیاء: ۳۴، ۳۵] ’’ہم نے (اے نبی!) آپ سے پہلے بھی کسی کو ہمیشہ کی زندگی نہیں بخشی، اگر آپ فوت ہو جائیں گے تو کیا وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟ ہر کسی جاندار کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، ہم امتحان کے لیے تم میں سے ہر ایک کو برائی و بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب بالآخر ہماری ہی طرف لوٹائے جاو گے۔‘‘ مسلمانو! کون ہے جسے موت آئے اور وہ بچ جائے؟ کون ہے جو کسی سخت محفوظ قلعے میں بند ہو کر رہ رہا ہو اور موت اسے وہاں نہ دبوچ سکے؟ کون ہے جس نے طویل عمر کی امید لگائی اور وہ بر آئی؟ وہ کون سی زندگی ہے جسے موت نے مکدر و گدلا نہیں کیا؟ وہ کون سی ٹہنی ہے، جو مضبوط ہوکر سیدھی کھڑی ہوگئی اور توڑی نہ گئی؟ آبا و اجداد موت کا نوالہ بن گئے، عورتیں بیوہ ہو گئیں، بچے یتیم ہوئے اور مرید و مراد کے مابین بھی موت حائل ہوگئی۔ موت سے کوئی نہیں بچا سکتا، لہٰذا اس وقت کے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلو، جبکہ ندامت بھی کسی کام نہ آئے گی۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ قُلْ اِِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِِنَّہٗ مُلٰقِیْکُمْ﴾ [الجمعۃ: ۸] ’’(اے نبی) کہہ دیجیے کہ وہ موت جس سے تم بھاگ رہے ہو، وہ یقینا تمھیں آنے ہی والی ہے۔‘‘ مرحوم اور محروم انسان: مسلمانو! ایامِ رمضان زمانے کے سر کا تاج ہیں ، جس پر ان دنوں میں رحم کر دیا گیا، وہ مرحوم ہے اور جو اس ماہ کی خیر و بھلائی نہ پاسکا وہ محروم ہے۔ جو شخص ان دنوں میں اپنی آخری زندگی کے لیے زادِ راہ اکٹھا نہ کرسکا، وہ ملامت زدہ اور بڑا ہی ظالم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: آمین، آمین، آمین۔ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے منبر پر چڑھ کر تین مرتبہ آمین آمین آمین کیوں کہا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :