کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 438
کا نذرانہ پیش کر لو تمھارے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے اور اگر بقیہ ایام میں برائی سے ہاتھ نہ کھینچا تو ماضی و مستقبل کے تمام گناہوں پر تمھارا مواخذہ ہوگا۔ ماہِ رمضان کا نصف اول تو ختم ہوا، جس نے دینِ اسلام کو پکڑے رکھا اور لرزش سے بچ گیا اور ماہِ رمضان کو غنیمت سمجھا وہ کامیاب ہوگیا، جبکہ غافل و عاصی ذلت و رسوائی، ندامت و پشیمانی اور شقاوت و بدبختی میں مبتلا ہوگیا۔ ایسے شخص کے لیے قیامت کے دن بربادی ہوگی، وہ دن جس میں اہل معاصی کے دل کٹ رہے ہوں گے اور آنسوؤں سے ان کے گال تر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حدیث ِ قدسی میں فرمایا ہے: (( یَا عِبَادِيْ! إِنَّمَا ھِيَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیْھَا لَکُمْ ثُمَّ أَوَفِّیْکُمْ إِیَّاھَا فَمَنْ وَّجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ وَمَنْ وَّجَدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَہٗ )) ’’اے میرے بندو! میں تمھارے تمام اعمال کا حساب رکھ رہا ہوں، میں ان سب کا تمھیں پورا پورا بدلہ دوں گا، اگر کوئی شخص بھلائی و بہتری پائے تو اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر اس سے مختلف صورت پائے تو پھر اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔‘‘[1] موت کا آ ہنی پنجہ: آج وہ کہاں ہیں جو پچھلے ماہِ رمضان میں ہمارے ساتھ روزے رکھ رہے تھے؟ انھیں موت نے نگل لیا ہے، اب وہ روزہ رکھ سکتے ہیں نہ افطار کرسکتے ہیں، انھیں عطر لگانے کے بجائے حنوط کیا گیا ہے اور قبر کی لحد میں لٹا دیا گیا ہے۔ موت کی چکی کے دو پاٹوں میں پس کر ان کے چہرے بھی مٹی میں مل کر ختم ہوگئے۔ آج وہ کہاں ہیں جنھوں نے آغازِ رمضان میں تو ہمارے ساتھ روزے رکھنا شروع کیے تھے اور اس ماہ کا پہلا حصہ قیام بھی کرتے رہے، تاکہ اجر و ثواب جمع کر لیں، مگر آناً فاناً موت آئی اور دنیا کی تمام لذتوں، خواہشات اور دوست و احباب سے نکال لے گئی، وہ مضبوط شاہانہ محلات سے نکال کر قبروں میں ڈال دیے گئے، اور نرم و گداز بستروں سے مٹی کے فرش پر ڈال دیے گئے ہیں۔ اللہ والو! ہم بھی انھی کے پیچھے جانے والے ہیں۔ انھیں پیش آنے والے حالات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلیں اور موت کی اس تلخی کو یاد رکھیں، جس سے کوئی فرد و بشر بچ نہیں پائے گا۔ اگر اس سے کوئی بچ سکتا تو سید البشر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ جاتے، لیکن وہ بھی اس موت سے نہ بچ پائے [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۷۷)