کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 434
ذریعۂ مغفرت: مغفرت کے اسباب و ذرائع میں سے عظیم ترین ذریعہ یہ ہے کہ بندہ اگر گناہ کر بیٹھے تو وہ اپنے رب کے سوا کسی سے گناہ کی مغفرت و بخشش کی امید نہ لگائے۔ لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہو ئے کہتے ہیں: ’’اے میرے بیٹے! ہر وقت یہ دعا کرتے رہنے کی عادت ڈالو: ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرلِيْ‘‘ (اے اﷲ! مجھے بخش دے) کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے پاس کچھ گھڑیاں ایسی ہیں جن میں وہ کسی سائل کے سوال کو رد نہیں کرتا۔‘‘[1] علاماتِ توبہ: توبہ کی علامت یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہ گار ماضی پر آنسو بہائے، آیندہ گناہ میں واقع ہونے سے ڈرے، برے دوستوں ساتھیوں سے تعلقات توڑ دے اور نیک و صالح لوگوں سے رشتہ جوڑ لے۔ ماہِ رمضان میں اﷲ تعالیٰ کی جناب میں تائب ہونے والوں کے قافلوں کے قافلے ہوتے ہیں جو اﷲ کے عفو وکرم کے خواستگار ہوتے ہیں۔ آپ بھی ان میں سے ایک بن جائیں۔ کیا ہی خوب ہے کہ ماہِ رمضان تائب ہونے اور انابت الی اﷲ کا نقطہ آغاز بن جائے۔ کتنے ہی لوگ اس ماہ میں تائب ہوتے ہیں اور کتنے ہی لوگ ہیں جو اﷲ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش طلب کرتے اور اپنے گناہوں پر اشکِ ندامت بہاتے ہیں۔ مسلم خاتون سے خطاب: اے خاتونِ مسلم! اس ماہ مبارک میں مشعل بن جا، فضیلت و شرف کی پہرے دار ہو جا، رذیل و ذلیل حرکات و سکنات کو ترک کر دے، اپنے دینِ اسلام کو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھ، اپنی عزت و شرف اور عفت و عصمت کا تحفظ کر کے عظمتوں کو چھو لے۔ ان افکارِ مریضہ اور اقوالِ قبیحہ پر بالکل کان نہ دھرو جو پردہ اور شرم و حیا داری چھوڑ دینے کی دعوت دیتے ہیں۔ فاسق و فاجر مسلم عورتوں اور کافر عورتوں کی تقلید و پیروی ترک کر دو جنھوں نے شرم اور دیگر نسوانی صفات سے اپنا دامن جھٹک رکھا ہے۔ ان فضیلت و برکت والے ایامِ رمضان میں شیطان کا نوالۂ تر نہ بن جاؤ اور چادر و چار دیواری [1] شعب الإیمان (۲/ ۵۶)