کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 433
بازآ، ہر آنکہ ہستی، بازآ: نا امیدی اور مایوسی شیطان کا ہتھیار ہیں جس کے ذریعے وہ گناہ گار کوبدستور گناہوں کی زندگی گزارنے پر لگائے رکھتا ہے، حالانکہ کسی گناہ گار نے کتنے ہی فسق و فجور اور گناہوں کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسلام میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ توبہ گناہوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لینا تلافی ما فات اور گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ میں مبتلا ہے تو یہ ماہِ رمضان توبہ و انابت الی اﷲ کا موسم ہے۔ شیا طین و اشرار پابندِ سلاسل اور قید میں ڈال دیے گئے ہیں اور دلو ں میں انکساری گھر کر چکی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴾ [الزمر: ۵۳] ’’(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دیجیے کہ میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر (گناہوں کا بوجھ ڈال کر) زیادتی کی ہے۔ تم اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، یقینا اﷲ تعالیٰ تمام گناہو ں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی بخشش اور بڑی رحمت والا ہے۔‘‘ ایک قدسی حدیث میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: (( یَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّکَ مَا دَعَوْتَنِيْ وَرَجَوْتَنِيْ غَفَرْتُ لَکَ عَلٰی مَا کَانَ مِنْکَ وَلَا أُبَالِيْ، یَا ابْنَ آدَمَ! لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُکَ عَنَانَ السَّمَآئِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِيْ غَفَرْتُ لَکَ، یَا ابْنَ آدَمَ! لَوْ أَتَیْتَنِيْ بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَایَا ثُمَّ لَقِیْتَنِيْ لَاتُشْرِکُ بِيْ شَیْئًا لَأَتَیْتُکَ بِقُرَابِھَا مَغْفِرَۃً )) [1] ’’اے ابن آدم! تو جب بھی مجھے پکارے گا اور میری ذات کے ساتھ اپنی امیدیں وابستہ کر دے گا تومیں تجھے بخش دو نگا تو چاہے جتنا بھی گناہ گار ہوگا اور مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہوں کا انبار آسمان تک بھی پہنچ گیا ہو گا اور پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے گا تو میں تجھے بخش دوں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین کی پہنائیوں کے برابر گناہ لے کر بھی میرے پاس آ گیا مگر تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو گا تو میں تجھے زمین کی وسعتوں کے برابر مغفرت و بخشش کے ساتھ ملوں گا۔‘‘ [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۴۰)