کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 431
میں سے جو محتاج و ضرورت مندہوں ان کے ساتھ آبرو مندانہ طریقے سے تعاون کرتے ہیں۔ پڑوسیوں کی خیر خبر لیتے، ان کا حال و احوال پوچھتے اور ان سے میل ملاقات بڑھاتے ہیں۔ فقرا و مساکین، یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ ماہِ رمضان میں صالحین کا یہی طرزِ عمل ہوتا ہے۔ قول وکردار سے دعوت و اصلاح: انسان کے لیے اپنی اصلاح کر لینے کے بعد افضل ترین عمل یہ ہے کہ وہ لوگوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے اﷲ تعالیٰ سے دعائیں کرے، خود بھی اس کی کوشش کرے اور ان کے اخلاق و کردار کی تعمیر و اصلاح میں کوشاں رہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ [حم السجدۃ: ۳۳] ’’اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اﷲ تعالیٰ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقینا مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘ دعوت کا میدان بڑا وسیع ہے۔ پر خلوص نصیحت، صدق و صفائی سے بات کرنا، اپنے کردار سے بہترین نمونہ پیش کرنا، علم و عمل اور تقوی و اخلاق؛ یہ سب دعوت کے انداز ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ دَعَا إِلٰی ھُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یُنْقَصُ مِنْ أُجُوْرِ ھِمْ شَیْئًا )) [1] ’’جس نے کسی کو رشد و ہدایت کی طرف دعوت دی، اسے بھی اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا، جتنا اس کے کہنے پر عمل کرنے والوں کو ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔‘‘ لہٰذا کوشش کریں بلکہ صدقِ دل سے عزم بالجزم کریں کہ آپ درجات ِ ہدایت و استقامت میں پیش از پیش ترقی کریں۔ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۷۴)