کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 43
’’اور ہم نے اچھے حالات اور برے حالات کے ساتھ ان کی آزمایش کی، تاکہ وہ باز آجائیں۔‘‘ کبھی مکروہ و ناپسندیدہ چیز کے بعد محبوب چیز حاصل ہوجاتی ہے اور کبھی مرغوب چیز مکروہ و ناپسندیدہ چیز کو کھینچ لاتی ہے، پس تو اس بات سے بے خوف نہ رہ کہ تجھے خوشحالی سے ضرر و نقصان پہنچے اور تو اس سے بھی مایوس نہ ہو کہ ضرر و نقصان کے اندر سے تیرے لیے خوشحالی کا سامان پیدا ہوجائے۔ اﷲ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۲۱۶] ’’اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمهارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمهارے لیے بری ہو اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ صبر کا مظاہرہ: لہٰذا مصائب کے ٹوٹ پڑنے سے پہلے اپنے نفس کو ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار رکھو اور اسے مطمئن کرو، تاکہ تجھ پر وہ آسان ہوجائیں اور تکالیف پر جزع و فزع نہ کرو، کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں آزمایشیں ایک محدود مدت کے لیے ہوتی ہیں۔ غضب آمیز گفتگو سے گریز کرو، کیونکہ بعض اوقات انسان ایسے کلمات زبان سے ادا کر بیٹھتا ہے جو اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتے ہیں، جبکہ ایک دور اندیش مومن آفات کے مقابلے میں ثابت قدم رہتا ہے، اس کا دل ڈانواں ڈول ہوتا ہے نہ اس کی زبان پر ہی کوئی شکوہ آتا ہے، لہٰذا تم مصائب پر اجر و ثواب کے وعدوں اور معاملے میں آسانی کے پیشِ نظر ان کو اپنے اوپر ہلکا کر لو، تاکہ کوئی شکوہ کیے بغیر غم چھپ جائیں۔ عقلمند لوگ مصائب کے مقابلے میں صبر اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہیں، تاکہ انھیں آفات کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے ان آفات پر خوش ہونے کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے، کیونکہ اگر دشمن کے سامنے تمھاری مصیبت ظاہر ہوجائے گی تو وہ اس پر خوشی اور مسرت محسوس کرے گا، اور پھر یہ کہ مصائب اور غموں کو چھپانا معزز اور شرفا لوگوں کی عادات میں سے ہے، پس صبر کرنے والا آزمایش سے جان چھڑا لیتا ہے اور کس قدر جلدی سے وہ زائل ہوجاتی ہے۔ اس معاملے کی انتہا آخر چند دن