کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 424
ماہِ رمضان میں دنیا بھر کے تمام ضعیف و کمزور مسلمانوں اور اپنے غریب بھائیوں کو یاد رکھو، ان کے لیے نیک دعائیں کرو اور اﷲ تعالیٰ سے گڑگڑا کر ان کے لیے کامیابی اور مدد و نصرت کی التجائیں کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ار شا د ہے: (( ثَلَاثَۃٌ لَّا تُرَدُّ دَعْوَتُھُمْ۔۔۔ الصَّائِمُ حِیْنَ یُفْطِرُ )) [1] ’’تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی۔۔۔ روزے دار جب وہ روزہ افطار کرنے والا ہو۔‘‘ خیراتی تنظیموں اور رفاہی اداروں سے تعاون: برادرانِ عقیدہ! بلادِ حرمین شریفین -الحمد ﷲ- اﷲتعالیٰ کی عظیم نعمتوں سے مالا مال ہیں، شریعتِ اسلامیہ اور اس کے مبادیات کے سائے ان پر رحمت فگن ہیں، ان کے عوام میں اخوت و بھائی چارہ پایا جاتا ہے، باہمی محبت و مودت کے اس قاعدے کا سبھی کو خیال ہے، حاکم و محکوم سبھی اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے کو شاں رہتے ہیں۔ اخوت و محبت کی اس فضا کو قائم کرنے میں ان خیراتی تنظیموں اور رفاہی اداروں کا بہت عمل دخل ہے، جو شب و روز اس غرض کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں، وہ سب بھی آپ کے تعاون و امداد کے مستحق ہیں، جو انھیں پہلے بھی حاصل ہے، مگر وہ مزیدکے بھی منتظر ہیں، خصوصاً اس ماہِ جود و سخا اور کرم و عطا کے دوران میں دل کھول کر ان کے ساتھ بھی تعاون کیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د ہے: (( مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَالٍ )) [2] ’’صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔‘‘ نیز ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اِتَّقُوْا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ )) [3] ’’آگ سے بچو خواہ وہ کھجورکے ٹکڑے (کے صدقے) کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ روزے کی ڈھال: مسلمانو! تمھارا روزہ تمام اوقات میں گناہوں کے لیے ڈھال ہونا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: [1] مسند أحمد، رقم الحدیث (۷۹۸۳) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۹۸) سنن ابن ماجہ، برقم (۱۷۵۲) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۸۸) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۴۱۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۱۶)