کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 423
سلف کے جود و سخا کا ایک نمونہ: سلف صالحین میں سے ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ اس نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ افطاری کا وقت آیا اور کھانا تیار کر کے ان کے سامنے رکھا گیا تو کسی سائل نے یوں صدا لگائی: کون ہے جو پورا پورا بدلہ چکانے والے غنی و بے نیاز ذات کو قرض دے ؟‘‘ اس بزرگ نے کہا: اس کا وہ بندہ اسے قرض دے گا، جس کا دامن نیکیوں سے خالی ہے۔ پھر وہ اٹھے اور وہ کھانا سائل کو دے دیا اور خود (معمولی افطاری کے بعد) بھوکے ہی را ت گزاری۔ اﷲتعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ [الحشر: ۹] ’’اور وہ انھیں (دوسروں کو) اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ وہ خود تنگی میں ہوں اور جو لوگ اپنے نفس کی تنگی و بخل سے بچالیے جائیں، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘ غربا و فقرا کی امداد: عالمِ اسلام میں بے شمار فقرا ایسے ہیں جن کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں، کتنے ہی بے گھر ہیں جن کا کوئی وطن نہیں، لا تعداد لوگ انتہائی تنگدستی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اور ان گنت وہ لو گ ہیں، جو طرح طرح کے دکھ جھیل رہے اور مصائب و آلام برداشت کر رہے ہیں، اپنوں کو قتل ہوتے دیکھتے ہیں، خود بے گھر اور بے سرو ساماں کر دیے جاتے ہیں، ان کے گھر بار تباہ اور ان کی جائیداد و املاک تباہ کی جا رہی ہیں۔ ولاحول ولا قوۃ إلا باللّٰه العلي العظیم۔ اے صاحبِ جود و سخا، صاحبِ عطف و کرم، صاحبِ احسان و حنان، اے نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اپنے مسلمان بھائیوں کا بھرپور خیال رکھو، ان کے حالات کو پیش نظر رکھو، ان کی مدد کے لیے مال، غذا، کپڑا اور دوا؛ جو کچھ بھی دے سکتے ہو، بے دریغ دیا کرو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: ﴿ وَ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ وَ ھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴾ [سبأ: ۳۹] ’’اور تم لوگ اس (اﷲ تعالیٰ) کی راہ میں جو کچھ بھی خر چ کرو گے، وہ اس کا بدلہ دے گا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر روزی رساں ہے۔‘‘