کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 422
کے لیے ان حالات سے چھٹکارا پانے کی صرف اور صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ ہے اﷲتعالیٰ اور اس کے دین کی طرف صحیح رجوع اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج و شریعت پر حقیقی معنوں میں عمل ہی موجودہ تمام بگاڑ کی اصلاح کا قاعدہ، عزت و فلاح کی جڑ، نصرت و نجات اور کامیابی و فتح یابی کی بنیاد ہے اور اسی چیز سے اس امت کے پچھلے لوگ سدھریں گے جس سے اس کے اگلے سلجھے تھے۔ ماہِ جود و سخا: برادرانِ ایمان! ماہِ رمضان ماہِ جود و کرم اور سخاوت و عطا کا مہینا ہے۔ سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ صاحبِ جود و سخا تھے۔ ماہِ رمضان میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ہوتی تو پھر آپ سخاوت و عطا میں بہت ہی بڑھ جاتے تھے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ماہِ رمضان گزرنے تک ہر رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں قرآن کریم سنایا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ملتے تو تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوا کرتے تھے۔‘‘[1] جود و سخا کی متعدد قسمیں اور متعدد شکلیں ہیں۔ ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق جود و سخا کر سکتا ہے۔ جو شخص اﷲتعالیٰ کے بندوں پر جود و سخاوت کرے گا، اﷲ تعالیٰ اس پر اپنے فضل و کرم اور عطا کی باراں برسا دے گا۔ خصالِ کرم میں سے اعلی ترین اقسام اور جود و سخا میں سے بہترین قسم اﷲ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ احسان کرنا اور انھیں ہر طریقے سے نفع و فائد ہ پہنچانا ہے، جیسے بھوکے کو کھلانا، حاجت مند کی ضرورت پوری کرنا اور مسکین و فقیر کی مدد کرنا وغیرہ ہیں۔ افطاری کا ثواب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا کَانَ لَہٗ أَجْرُہٗ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْقَصَ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئًا )) [2] ’’جس نے کسی کا روزہ افطار کروایا، اسے بھی اس روزے دار جتنا ہی ثواب دیا جاتا ہے، اور اس افطار کرنے والے روزہ دار کے ثواب میں سے بھی کچھ کم نہیں کیا جاتا۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۹۰۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۴۶) [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۸۰۷) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۷۴۶)