کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 420
’’قیامت کے دن روزہ اور قرآن کریم بندے کے لیے (اﷲ تعالیٰ سے) سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے کھانے پینے اور شہوت کی جائز تسکین سے روکے رکھا، اس لیے میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کریم کہے گا: میں نے اسے رات کی نیند کا مزہ لینے سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما، چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘ اﷲ تعالیٰ کا جنت کے دروازے کھولنا اور جہنم کے دروازے بندکرنا: ماہِ رمضان عفو و در گزر، رحم و کرم اور مغفرت و بخشش کا مہینا ہے، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( إِذَا جَآئَ شَھْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَآئِ - وَفِيْ رِوَایَۃٍ: - أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، -وَفِيْ رِوَایَۃٍ:- أَبْوَابُ الرَّحْمَۃِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَھَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِیْنُ )) [1] ’’جب رمضان کا مہینا آجائے تو اﷲ تعالیٰ آسمانوں کے دروازے اور ایک روایت میں ہے جنت کے دروازے کھول دیتا ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دیتا ہے اور شیاطین کو پابندِ سلاسل (قید) کر دیتا ہے۔‘‘ بخشش: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ )) [2] ’’جس نے اﷲ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو ئے اور اس سے ثواب پانے کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کیا، اس کے سارے پچھلے گنا ہ بخشے گئے اور جس نے اس پر ایمان اور اسی سے ثواب کے لیے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ بخشے گئے۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۸۹۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۷۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۹۰۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۶۰)