کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 415
برائی پر لگا ہوا ہے، وہ بے شمار بھلائیو ں سے محروم رہ جاتا ہے۔ ماہِ رمضان ماہِ قرآن ہے اور دل قرآن کے برتن اور ایمان کی جائے قرار ہیں۔ وہ برتن جو گناہوں سے لت پت ہو وہ قرآن سے کیسے متاثر ہو سکے گا؟ رمضان المبارک کا استقبال پاکیزہ نفسی اور دلوں کو حسد و بغض اور کینے سے پاک کرکے کریں کہ ان بیماریوں نے قوم کو توڑ پھوڑ دیا ہے اور مسلمانوں میں تفریق و اختلافات کا طوفان بپا کر رکھا ہے، جس پر رمضان آئے اور وہ والدین کا نافرمان ہو، قطع رحمی کرنے والا ہو، اپنے بھائیوں سے تعلقات توڑ ے ہوئے ہو، معاشرے میں چغلی غیبت اس کا شیوہ ہو توایسا آدمی رمضان المبارک سے ہر گز مستفید نہیں ہوتا۔ اﷲ تعالیٰ کا ا رشاد ہے: ﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴾ [الأنفال: ۱] ’’اﷲ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو، ایک دوسرے سے اپنے معامات درست اور باہم صلح رکھو، اﷲ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کا اتباع کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ رمضان کی حکمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان کرۂ ارضی کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے دکھ درد میں شریک ہوں، فاصلوں، دوریوں اور رکاوٹوں سے قطع نظر کریں، فقرا و مساکین اور غربا و کمزوروں کی پکار پر لبیک کہیں، ان کی مدد کریں، ان کی تکلیفوں کو محسوس کریں، ان کا غم بانٹیں اور ان کے فقر و فاقے میں ان کا ساتھ دیں۔ رمضان کا استقبال اپنے اموال کو حرام سے پاک کرنے کے ساتھ کریں، کس قدر حسرت و ندامت والا منظر ہے کہ زبانیں دعائیں تو کرتی ہیں، مگر وہ قبول نہیں ہوتیں، جبکہ ہمارا پرور دگار کہتاہے: ﴿وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۸۶] ’’اور جب میرے بندے میرے بارے میں تم سے پوچھیں (تو کہہ دیں کہ) میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا کو پورا کرتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکا رے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میر ی بات مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، تاکہ وہ راہِ راست اور رشد و ہدایت پائیں۔‘‘ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد للّٰه رب العالمین۔