کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 411
میں گھرا ہوا ہے اور اس سے نکل نہیں سکتا۔‘‘ رجوع الی اﷲ: بندے میں فتنوں سے بچنے، ان کا مقابلہ کرنے اور انھیں رفع کرنے کی کوئی طاقت نہیں سوائے اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد و تعاون کے، وہی ثابت قدم رکھنے والا اور وہی معاون و مددگار ہے، اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو تو کوئی مسلمان قدم اٹھا سکتا ہے، نہ اٹھایا ہوا قدم رکھ سکتا ہے اور نہ ہی کسی بھلائی پر لمحہ بھر کے لیے ثابت و قائم رہ سکتا ہے، لہٰذا فتنوں کے خاتمے کے اسباب و ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ اﷲ تعالی کی طرف رجوع بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کی مدد طلب کرنے کا گہر ا شعور رکھتے تھے۔ آپ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے: (( یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِیْنِکَ )) [1] ’’ اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی فتنوں اور آزمایشوں سے اﷲ تعالیٰ کی بہ کثرت پناہ مانگا کرتے تھے اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس بات کی تاکید کیا کرتے تھے: (( تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ، مَاظَھَرَ وَمَا بَطَنَ )) [2] ’’ظاہری و باطنی ہر قسم کے فتنوں سے اﷲ تعالی کی پناہ مانگا کرو۔‘‘ تزکیۂ نفس: اطاعت و عبادت کے ساتھ تزکیہ و اصلاحِ نفس بھی ثابت قدمی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَ لَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًا﴾ [النساء: ۶۶] ’’اور اگروہ لوگ وہی کرتے جس کی انھیں نصیحت کی جاتی ہے، توان کے لیے زیادہ بہتر اور انھیں دین پر ثابت قدم رکھنے کے لیے زیادہ موثر ہوتا۔‘‘ اعمالِ صالحہ فتنوں سے بچاؤ کا نسخہ ہیں، انہی کے ذریعے مسلمان خوشحالی کے ایام میں خیر و بھلائی کا بیلنس بڑھاتا ہے اور جب فتنے بپا ہو جائیں تو اﷲ تعالیٰ کے فضل سے انہی اعمال صالحہ کی بدولت بندہ [1] مسند أحمد (۶/ ۲۹۴) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۲۲) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۶۷)