کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 410
’’پس تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے، تو جو شخص میری ہدایت کا اتباع کرے گا، وہ دنیا میں گمراہ نہیں ہوگا اور نہ موت کے بعد کی زندگی میں تکلیف اٹھائے گا۔‘‘ نیز اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ [النحل: ۱۰۲] ’’آپ کہہ دیجیے کہ اس قر آن کو جبرائیل نے میرے رب کے پاس سے بر حق نازل کیا ہے، تاکہ یہ ایمان والوں کو ثابت قدم بنائے۔‘‘ اور ارشاد فرمایا: ﴿ وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِ۔م الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ﴾ [ھود: ۱۲۰] ’’اور ہم انبیا کی خبروں میں سے ہر خبر آ پ کو اس لیے سناتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔‘‘ اطاعتِ الٰہی: امت میں رونما ہونے والے فتنوں کو رفع کرنے کے لیے سب سے پہلا ہتھیار ہدایتِ الٰہی کا اتباع ہے، اسی ہدایت کے سائے میں مسلمان اچھی صلاحیت پاتے ہیں اور ان میں عزم و ہمت کا اسلحہ جنم لیتا ہے۔ لا الہ الا اﷲ کے جھنڈے تلے ہی امت کا اتحاد و اتفاق وجود میں آتا ہے۔ اتباعِ رسول: اسی طرح فتنوں سے نجات کا تیسرا طریقہ دین کے ہر چھوٹے بڑے، ظاہر و باطن، عقیدہ و اعمال اور حقائق و شریعت کے تمام امور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت نافذ کرنے میں پنہاں ہے۔ ایسے میں علم و تقوی بھی راستے کا نور ہیں، جبکہ ہر سو اندھیرے چھائے ہوئے ہوں اور راستے طرح طرح کے فتنوں میں جھکڑے ہوئے ہوں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَ جَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْھَا﴾ [الأنعام: ۱۲۲] ’’کیا جو شخص مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ہم نے ایک نور مہیا کر دیا جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا ہے، وہ اس آدمی کی مانند ہو سکتا ہے، جو تاریکیوں