کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 407
کا ایندھن انسانی اور غیر انسانی جانیں اور مال ہوتے ہیں اور ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے، اﷲتعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ خطرناک فتنے: سب سے خطرناک اور بڑے فتنے وہ ہوتے ہیں جو دین میں واقع ہوں۔ انسان اپنے سامنے کئی شاخوں اور پگڈنڈیوں والے راستے دیکھے اور رنگا رنگ فتنوں میں مبتلا کر دیا جائے، ایسے انسان کا صرف وجدان و شعور ہی متزلزل نہیں ہوتا، بلکہ تما م تر حفاظتی تدا بیر کے باوجود وہ انسان کی پوری زندگی ہی کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور انسان اپنے معاملے میں متحیر و ششدر اور اپنی عاقبت و انجام کے بارے میں خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ فتنوں کے سبب ایک قاتل قسم کی ناامیدی کی حالت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، کچھ لوگ ایسے حالات میں ا پنے آپ کو زندگی کے حاشیے میں دفن کرلیتے اور گوشہ نشین ہو جاتے ہیں، کئی لوگوں کے دماغ پر شیطان سوار ہو جاتا ہے اور وہ اپنے آپ پر وبال لے آتے ہیں، یہ سب کچھ کم فہمی کے سبب ہوتا ہے یا جھوٹی خبروں کے پھیلانے کے نتیجے میں، کبھی خواہشات نفس کی پیروی میں، کہیں بصیرت کے اندھا پن میں اور کسی کے یہاں ا رادوں کے فساد و بگاڑ کے سبب سے۔ فتنوں کی انھی خطرناکیوں اور ہولناکیوں کے سبب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [البقرۃ: ۲۱۷] ’’اور فتنہ قتل سے بڑا گناہ ہے۔‘‘ یہی سبب ہے کہ شریعت اسلامیہ نے فتنوں کے بارے میں خصوصی تنبیہ کی ہے اور مسلمانوں کے سامنے واضح نشانات اور سنگ میل لگا دیے ہیں جنھیں دیکھنے سے راہنمائی حاصل ہو تی ہے اور اﷲ تعالیٰ بھی ناراض نہیں ہوتا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فتنہ جب رونما ہو رہا ہوتا ہے تو اسے ہر عالم پہچان سکتا ہے اور جب وہ اپنا کام کر چکا ہوتا ہے، تو پھر اسے ہر جاہل بھی پہچان لیتا ہے۔‘‘[1] فتنوں کی حکمتیں: فتنے بھی اس سنتِ الٰہی کا ایک حصہ ہیں، جس میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی، بلکہ وہ جاری و ساری [1] طبقات ابن سعد (۷/ ۱۶۶) التاریخ الکبیر للبخاري (۴/ ۳۲۱) حلیۃ الأولیاء (۹/ ۲۴)