کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 405
تغیراتِ زمانہ ایسے رونما ہو رہے ہیں کہ عقائد و افکار اور اخلاقی اقدار کو ملوث کر رہے ہیں، قوم بد سے بدترین فتنوں میں مبتلا ہوتی چلی جا رہی ہے، لوگ ایک فتنے کو بہت بڑا قرار دے رہے ہوتے ہیں کہ اتنے میں اس سے بھی بڑا فتنہ رونما ہو جاتا ہے۔ کبھی خواہشاتِ نفس کو جلا کر رکھ دینے والے فتنے ہیں تو کبھی شکوک و شبہات کے گمراہ کر دینے والے فتنے ہیں، اسی طرح مختلف مسالک و مذاہب کے لوگوں کے اختلافات و آرا کے بھی فتنے پھیلتے جا رہے ہیں۔ فتنوں کا نشانہ: دور حاضر کے فتنے صرف لوگوں کے اجسام ہی سے نہیں کھیلتے بلکہ ان کے افکار کو بھی تہہ و بالا کر کے رکھے دیتے ہیں، بلکہ آج کل کے فتنوں میں خاص بات ہی یہ ہے کہ وہ افکار و حقائق کو متاثر کرنے والے فتنے ہیں۔ فتنوں کے اس جھکڑ میں آپ لوگوں کو دیکھیں گے کہ ا ن کی حالت ان سوکھے ہو ئے پتوں کی سی ہے، جن کو تیز ہوائیں۔ آسانی سے اِدھر اُدھر اڑائے لیے جاتی ہیں۔ جی ہاں! فتنے کچھ لوگوں کو واقعتا شکار کر لیتے ہیں، چنانچہ امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’خواہشاتِ نفس کے بھڑکنے کے وقت عقلوں کے چلے جانے کے فتنے سے ڈرتے رہو۔‘‘[1] فتنوں سے اجتناب: سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’فتنوں سے بچو۔ کوئی شخص بھی ان میں جھانکنے کی کوشش نہ کرے، جس شخص نے ان میں جھانکنے کی جسارت کی وہ اسے یوں برباد کر دیں گے، جیسے سیلاب کا پانی خس و خاشاک اور گھاس پھوس کے تنکوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔‘‘[2] فتنوں کے اسباب: اﷲ رب العزت نے امتِ مسلمہ کو تنبیہ کی ہے کہ اگر اس نے اپنے رب العزت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی خلاف ورزی کی اور اپنی شریعت سے دور ہوئے، تو اﷲ تعالی انھیں فتنوں میں مبتلا کر دے گا، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: [1] صلاح الأمۃ في علو الأمۃ (۶/ ۳۹۰) [2] حلیۃ الأولیاء (۱/ ۲۷۳) الفتن لنعیم بن حماد (۱/ ۱۴۰)