کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 402
﴿ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ﴾ [آل عمران: ۱۱۸] ’’ان کی عداوت تو خود ان کی زبانوں سے بھی ظاہر ہو چکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ ان مغربی ذرائع اِبلاغ کو چاہیے کہ عقل و ہوش کے ناخن لیں، اسلام پر طعن و تشنیع سے باز رہیں، مسلمانوں کے جذبات کو بلا وجہ ٹھیس پہنچانے کے رویے کو ترک کر دیں اور خواہشات کی پیروی سے ہٹ کر پوری غیر جانبداری اور شفافیت سے حقائق کو دیکھیں۔ عام مسلمانوں کی ذمے داری: بعض حوادث اور آفات و مصائب کے بارے میں قیل و قال عام ہو جاتی ہے اور ہمیں شریعتِ اسلامیہ نے یہ حکم دے رکھا ہے کہ فتنوں کے موقع پر ہم اپنی زبانوں اور ہاتھوں کو اپنے کنٹرول میں رکھیں، آپس میں ایک دوسرے کی غیبت کرنے اور چغلی کھانے سے گریز کریں، حکام و امرا اور علما پر تنقید کے تیر نہ پھینکیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو ان کے لیے دعائیں کریں، کیونکہ ان کی صلاح و فلاح ہی میں عوام الناس کی صلاح و فلاح ہے۔ حکام شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ اور علما تبلیغِ شریعت کے لیے کوشاں رہیں، اگر لوگ حکام پر تنقید کریں گے تو سرکشی و نافرمانی بڑھے گی اور سلطانِ وقت کی خفت ہوگی، اسی طرح جب لوگ علماے کرام پر تنقید کریں گے تو علما پر سے اعتماد اٹھ جائے گا اور وہ جس شریعت کی خدمت و تبلیغ کرتے ہیں، وہ بھی مقامِ ثقاہت سے گر جائے گی، ان امور میں اتنے دینی و دنیوی مفاسد پائے جاتے ہیں جنھیں اﷲ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ اﷲ نے حکام و علما کے ساتھ عوام کے بے شمار دینی و دنیاوی مفادات وابستہ کر رکھے ہیں۔ سعودی عرب میں، اہل وطن اور غیر ملکی سبھی لوگوں کے حقوق شریعتِ اسلامیہ کے سائے میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ محفوظ ہیں، لہٰذا اﷲ کی اطاعت کر کے اور گناہوں سے کنارہ کش ہو کر ان نعمتوں کو اپنے لیے دائمی کر لو، اور حق کی راہ میں مدد گار بنو، ہر حال میں باہم بھائی بھائی بن کر رہو اور گناہوں سے ہر ممکن طریقے سے بچو، کیونکہ ہر قسم کے شر و برائی کا سبب یہی گناہ ہیں اور دنیا و آخرت کی سزاؤں اور مشکلات و مصائب کا باعث بھی یہی ہیں، لہٰذا انہیں ترک کرو اور اطاعت کے رنگ میں شکر گزار بنو، شکر گزاروں پر نعمتیں زیادہ کرنے کا اﷲ نے وعدہ کر رکھا ہے، جیسا