کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 400
’’اے ایمان والو! اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات کہو، اﷲ تمھارے اعمال سدھار دے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا، جس نے اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی وہ بہت بڑی کامیابی پاگیا۔‘‘ کرے کوئی اور بھرے کوئی: یہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور اسلامی قانون و شریعت میں اس کے عدل و انصاف کے تقاضوں میں سے ہے کہ ہر شخص خود ہی اپنے قول وفعل اور گناہ و خطا کا ذمے دار ہے، کسی ایک کا گناہ کسی دوسرے پر لادا جا سکتا ہے نہ کوئی شخص کسی دوسرے کے فعل کا جواب دہ ہے۔ جو کرے گا وہی بھرے گا، کسی کے گناہ کا مؤاخذہ اس کے رشتے دار سے نہیں کیا جا سکتا اور نہ کسی فردِ واحدکے جرم کی پاداش میں پورے قبیلے کو سزا دی جا سکتی ہے، یہ اسلامی نظام دنیا میں ہے اور یہی آخرت میں بھی رائج ہوگا، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِھَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْئٌ وَّ لَوْ کَانَ ذَاقُرْبٰی﴾ [الفاطر: ۱۸] ’’کوئی بھی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اگر کوئی گراں بار کسی دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے بلائے گا تو وہ اس سے کچھ بھی نہیں اٹھائے گا، گو وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی . وَاِِبْرٰھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی . اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی . وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِِنْسَانِ اِِلَّا مَا سَعٰی . وَاَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُرٰی . ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی﴾ [النجم: ۳۶ تا ۴۱] ’’کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی، جو موسی اور وفادار ابراہیم کے صحیفوں میں تھی کہ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے، جس کی کوشش خود اس نے کی، اور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اسے پورا پور ا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘