کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 396
’’جو کسی کی غلطی معاف نہیں کرتا، اس کے گناہ بھی نہیں بخشے جائیں گے۔‘‘ ایک حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِيْ تَوَآدِّھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ، إِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعیٰ لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھَرِ وَالْحُمّٰی )) [1] ’’باہم پیار و محبت، رحم و کرم اور شفقت و رافت میں مومنوں کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جسم ہے کہ اگر اس کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم ہی بے چینی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘ اسلام نے ہر چھوٹے بڑے اور کمزور پر رحم وکرم کرنے اور ترس کھانے کی تعلیم دی ہے۔ سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرِ الْکَبِیْرَ، وَیَرْحَمِ الصَّغِیْرَ، وَیَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ )) [2] ’’جس نے اپنے سے بڑے کی عزت و توقیر نہ کی اور اپنے سے چھوٹے پر رحمت و شفقت نہ کی، نیکی کا حکم نہ دیا اور برائی سے منع نہ کیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔‘‘ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا: آپ لوگ تو بچوں کو چومتے ہیں، ہم تو ایسا نہیں کرتے! یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَوَ أَمْلِکُ لَکَ أَنْ نَزَعَ اللّٰہُ رَحْمَۃً مِنْ قَلْبِکَ؟! )) [3] ’’یہ بات میرے اختیار میں تو نہیں کہ اﷲ نے تمھارے دل سے رحمت نکال رکھی ہے!!‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَۃُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ )) [4] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۱۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۸۶) [2] مسند أحمد، رقم الحدیث (۲۳۲۹) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۹۲۱) اس کی سند میں ’’لیث بن ابی سلیم‘‘ راوی ضعیف ہے، البتہ اس حدیث کے یہ الفاظ: ’’لیس منا من لم یوقر الکبیر ویرحم الصغیر‘‘ دیگر شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ دیکھیں: سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۹۴۳) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۹۱۹) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۹۹۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۱۷) [4] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۹۲۲) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۹۲۳)