کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 394
تیسرا خطبہ دین رحمت امام و خطيب :فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اﷲ کے بندو! زندگی کے کچھ قواعد اور اصول ہوتے ہیں، جن پر اس کی بنیاد ہے، ان بنیادی اصولوں اور صفاتِ کریمہ میں سے ایک صفتِ رحم و کرم بھی ہے، جس سے زندگی سعادت مند ہوتی اور مخلوق اس سے بہرہ ور ہوتی ہے۔ رحم و کرم ایسی اخلاقی صفت اور اعلیٰ وصف ہے، جو صرف سعادت مند لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس سے محروم ہوتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( إِنَّ لِلّٰہِ مِائَۃَ رَحْمَۃٍ أَنْزَلَ مِنْھَا رَحْمَۃً فِي الْأَرْضِ، فَبِھَا یَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ، حَتّٰی إِنَّ الْفَرَسَ لَتَرْفَعُ حَافِرَھَا، وَالنَّاقَۃُ لَتَرْفَعُ خُفَّھَا مَخَافَۃَ أَنْ تُصِیْبَ وَلَدَھَا، وَأَمْسَکَ تِسْعَۃً وَّتِسْعِیْنَ رَحْمَۃً عِنْدَہُ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ )) [1] ’’اﷲ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے صرف ایک اس نے زمین پر اتاری ہے، اسی کی وجہ سے پوری مخلوق باہم رحم و کرم کا سلوک کرتی ہے حتی کہ گھوڑا اپنا کُھر اور اونٹنی اپنا پاؤں دیکھ بھال کر رکھتی ہے، تاکہ کہیں وہ اس کے بچے پر نہ آ جائے۔ باقی ننانوے رحمتیں اﷲ نے قیامت کے دن کے لیے اپنے پاس روک کر رکھی ہیں۔‘‘ اﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفتِ رحمت بھی ہے، جیسی اس کے جلال و شان کے لائق ہے۔ یہی صفت مخلوق میں صفتِ کمال ہے، جس کی وجہ سے وہ آپس میں رحم و کرم کا معاملہ کرتی ہیں۔ قوی اور طاقتور شخص ضعیف و کمزور پر شفقت کرتا ہے اور اسے نفع پہنچانے اور اس سے شر کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۰۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۵۲)