کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 392
والے کو ’’یَرْحَمُکَ اللّٰہ‘‘ کہیں، قسم کھالینے والے کی قسم کو پورا کریں، مظلوم کی مدد کریں، دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کریں اور سلام کو عام کریں۔‘‘[1] نیز فرمایا ہے: (( لَا تَقَاطَعُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَشَاتَمُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ إِخْوَانًا )) [2] مسلمانو! ’’باہم قطع تعلقی نہ کرو، ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے باتیں (غیبت) نہ کرو، باہم بغض نہ رکھو، دلوں میں حسد رکھو نہ گالی گلوچ کرو، بلکہ اﷲ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔‘‘ ایک بار فرمایا: (( وَالْمُسْتَبَّانِ شَیْطَانَانِ یَتَھَاتَرَانِ وَ یَتَکَاذَبَانِ )) [3] ’’ باہم گالی گلوچ کرنے والے دونوں ہی شیطان ہیں، وہ دونوں بری باتیں زبان سے نکالتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘ (( اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَی الْبَادِیِٔ حَتّٰی یَعْتَدِيَ الْمَظْلُوْمُ )) [4] ’’باہم گالی گلوچ کرنے والے دونوں میں سے جس نے ابتدا کی دونوں کا گناہ اسی پر ہوگا، جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔‘‘ مسلمانو! صحیح عزم اور پختہ ارادوں سے فلاح و نجات کی صبح روشن ہوتی ہے، صرف امیدوں سے کامیابیاں اورمحض تمناؤں سے نجات نہیں ملتی، سستی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہ دنیا آمد و رفت کا میلہ ہے، یہاں کسی کو حیاتِ جاوداں ملے، یہ انتہائی محال ہے۔ ایں خیال است و محال است و جنوں ارشادِ الٰہی ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۱۸۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۰۶۶) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۶۰۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۶۴۸) [3] مسند أحمد، رقم الحدیث (۱۷۴۸۳) الأدب المفرد، رقم الحدیث (۴۲۷) [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۶۸۸)