کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 391
’’جس نے صبح اس حال میں کی کہ وہ مسلمانوں کے معاملات و مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا تو وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔‘‘ اﷲ کو سب سے پسندیدہ بات یہ ہے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کے دل کے لیے سرور و خوشی کا سامان کرے یا اس کی کوئی مشکل دور کرے یا اس کی بھوک مٹائے یا اس کا قرض چکائے۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُّسْلِمٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنَ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَّسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِي الدُّنْیَا وَ الآْخِرَۃِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِي الدُّنْیَا وَالآْخِرَۃِ، وَاللّٰہُ فِيْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِيْ عَوْنِ أَخِیْہِ )) [1] ’’جس نے اپنے مسلمان بھائی کی کوئی دنیاوی مشکل دور کی تو اﷲ اس کی قیامت کے دن کی مشکلات میں سے کوئی مشکل حل کرے گا اور جس نے کسی تنگدست اور فقیر پر آسانی کی تو اﷲ اس کے لیے دنیا و آخرت میں آسانیاں کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اﷲ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو کوئی اپنے کسی بھائی کی مدد کرے گا، اﷲ اس کی مدد کرے گا۔‘‘ نیز فرمایا ہے: (( وَمَنْ کَانَ فِيْ حَاجَۃِ أَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِيْ حَاجَتِہٖ )) [2] ’’اور جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی حاجت پوری کی، اﷲ اس کی حاجت روائی کرے گا۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( عُوْدُوا الْمَرِیْضَ، وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَ فُکُّوا الْعَانِيُ )) [3] ’’بیمار کی عیادت و مزاج پرسی کرو، بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور قیدی کو چھڑاؤ۔‘‘ اور سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا: ’’ہم بیمار کی عیادت کریں، جنازے کے پیچھے چلیں، چھینک مارکر ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ کہنے [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۸۶۷) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۲۶۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۶۷۷) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۹۵۴)