کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 388
نیز فرمایا ہے: (( سِبَابُ الْمُسْلِمُ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ )) [1] ’’مومن کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔‘‘ اور فرمایا ہے: (( أُیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَکْفَرَ رَجُلًا مُّسْلِمًا، فَإِنْ کَانَ کَافِرًا وَإِلَّا کَانَ ھُوَ الْکَافِرُ )) [2] ’’اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو اگر وہ کافر ہو گا تو ٹھیک ہے ورنہ وہ (کہنے والا) خود کافر ہوگا۔‘‘ مسلمانو! ہمہ تن گوش ہو کر سنو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( لَزَوَالُ الدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ )) [3] ’’کسی مسلمان کے قتل سے پوری دنیا کی بربادی اﷲ کے نزدیک ہلکی چیز ہے۔‘‘ اﷲ کے بندو! اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو، اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر کی اطاعت کرو اور اس کی منہیات سے اجتناب کرو، تمھیں خوشگوار زندگی اور سعادت بردوش انجام حاصل ہو گا۔ صیہونی دہشت گردی: مسلمانو! آج مسلمانوں کو مختلف ممالک میں کشت و خون، جرائم اور مصائب و مشکلات کی تجربہ گاہ بنا لیا گیا ہے اور انھیں گہرے زخموں سے دو چار کیا جا رہا ہے، خصوصاً عہد و امانت سے عاری صیہونی و یہودی قوم نے فلسطین میں مسلمانوں کو اپنے ظلم وستم، جبر و استبداد، گھیراو جلاو اور ارہاب و دہشت گردی کا نشانہ اور قتل و غارت کے لیے تختۂ مشق بنا رکھا ہے۔ وہ پوری دنیا کی نظروں کے سامنے مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل کرتے ہیں اور نسل کشی کے در پے ہیں، انھوں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۷) [تاہم علامہ ابن عثیمین نے ((من لم یہتم بأمر المسلمین فلیس منہم ))کو اپنی کتاب ’’الصحوۃ الإسلامیۃ‘‘ (ص: ۱۱۲) میں نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ لوگو ں کے مابین مشہور و معروف احادیث میں سے ہے اور اس کے الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں یا نہیں، میں نہیں جانتا، البتہ اس کا معنیٰ صحیح ہے۔ (ابو عدنان)] [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۰۶۷) نیز دیکھیں: صحیح البخاري، برقم (۵۶۳۹) صحیح مسلم، برقم (۹۲) [3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۳۱۵) سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۹۲۲)