کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 386
وَیَحُوْطُہٗ مِنْ وَّرَائِہٖ )) [1] ’’مومن مومن کا آئینہ اور بھائی ہے، وہ اس کی عدم موجودگی میں اس کے بیوی بچوں اور مال و جائیداد کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ مسلمانو! ملک و قوم، رنگ و نسل اور زبان و علاقے کے الگ الگ ہونے کے باوجود تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں۔ ان کا دین ایک، کتاب ایک اور نبی ایک ہے۔ یہ کسی دوسرے کی خوشی سے اپنی خوشی محسوس کرتے ہیں اور کسی ایک کی تکلیف سے تکلیف محسوس کرتے اور ایک کے مرض سے سب درد محسوس کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( مَنْ صَلّٰی صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا، فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِيْ لَہٗ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖ، فَلَا تُخْفِرُوْا اللّٰہَ فِيْ ذِمَّتِہٖ )) [2] ’’جس نے ہماری طرح نماز پڑھی، ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا اور ہمارے ذبیحے کا گوشت کھایا، وہ ایسا مسلمان ہے جس کی ذمے داری اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سر ہے، لہٰذا اﷲ کی امان اور ذمے داری کو نہ توڑو۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا، وَشَبَّکَ أَصَابِعَہُ )) [3] ’’مومن مومن کے لیے مضبوط دیوار کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈالا۔‘‘ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِيْ تَوَآدِّھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ، إِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھَرِ وَالْحُمّٰی )) [4] ’’مومنوں کے باہم پیار و محبت، رحم و کرم اور عطف و مہربانی کرنے میں ان کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو اس کا سارا جسم ہی [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۲۷۲) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۷۸) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۲۶۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۶۸۴) [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۶۸۵)