کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 385
کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، اور ظلم و طغیان اور جبرو استبداد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اسی رابطہ و تعلق کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾ [التوبۃ: ۷۱] ’’مومن مرد اور مومن عورتیں سب ایک دوسرے کے دلی دوست ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکات ادا کرتے ہیں، اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں، ان سب پر اﷲ کا رحم ہوگا، بیشک اﷲ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ نیز فرمایا ہے: ﴿ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ کَبِیْرٌ﴾ [الأنفال: ۷۳] ’’وہ لوگ جو کافر ہوئے، وہ ایک دوسرے کے دلی دوست ہیں، اور اگر تم نے ایسا (باہمی موالات و اختلاط) نہ کیا تو ملک میں فتنہ اور زبردست فساد ہو گا۔‘‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( اَلْمُسْلِمُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ، وَیَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ أَدْنَاھُمْ، وَیُجِیْرُ عَلَیْھِمْ أَقْصَاھُمْ، وَھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ )) [1] ’’مسلمانوں کے خون باہم ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں، ان کا ادنیٰ شخص بھی ذمہ اٹھا سکتا ہے اور کہیں دور دراز والا بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے، اور دشمنوں کے مقابلے میں وہ سب ایک مٹھی کی طرح ہیں۔‘‘ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (( اَلْمُؤْمِنُ مِرْآۃُ الْمُؤْمِنِ، وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، یَکُفُّ عَلَیْہِ ضَیْعَتَہُ، [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۳۷۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۶۷۵)