کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 381
روے زمین پر دوسرا ایسا کوئی دین نہیں جسے اختیار کیا جا سکتا ہو، سوائے دینِ اسلام کے، جو کہ پہلے تمام ادیان کو ختم کرنے والا اور پہلی امتوں اور ملتوں کو منسوخ کرنے والا ہے۔ آج جو شخص بھی اس دین میں داخل نہ ہو وہ کافر اور اﷲ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کا دشمن ہے اوروہ شخص اہلِ جہنم میں سے ہے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ، لَا یَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ، یَھُوْدِيٌّ وَّلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ یَمُوْتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِہٖ إِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ )) [1] ’’مجھے قسم ہے اس ذا ت کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، اگر کوئی یہودی یا عیسائی میرے مبعوث ہو جانے کے بارے میں سن لے اور پھر بھی مجھ پر ایمان لائے بغیر مر جائے تو وہ اہلِ جہنم میں سے ہو گا۔‘‘ مسلمانو! دشمنانِ اسلام چاہے کتنی بھی کوششیں کر لیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو ناکام ثابت کر سکیں، وہ نورِ اسلام کو کبھی نہیں بجھا سکتے، کیونکہ اس کے تحفظ کی ذمے داری تو خود ربِ کائنات نے لے رکھی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ﴾ [الصف: ۸] ’’وہ اپنے منہ سے اﷲ کے نور (اسلام) کو بجھانا چاہتے ہیں جبکہ اﷲ اس نور کو مکمل کرنے والا ہے، چاہے یہ بات کافروں کو بری ہی کیوں نہ لگے۔‘‘ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (( لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ، وَلَا یَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَّلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ، بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیْلٍ، عِزًّا یُعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الْإِسْلَامَ، وَذُلًّا یُذِلُّ اللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ )) [2] ’’اﷲ تعالیٰ اس دین کو وہاں تک ضرور پہنچائے گا جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں، اﷲ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۱۸) [2] مسند أحمد (۲۸/ ۱۵۴) رقم الحدیث (۱۶۹۵۷) المستدرک للحاکم (۴/ ۴۳۰)