کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 380
دوسرا خطبہ زوال امت کے اسباب اور ان کا علاج امام و خطيب: فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اﷲ کی عظیم نعمت و احسان: اﷲ کی اپنے بندوں پر بے شمار نعمتیں اور لاتعداد عظیم احسانات ہیں، اس کی ان نعمتوں اور احسانات میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے ہمیں اس امت کا فرد بنایا، جو تمام امتوں سے بہتر و افضل ہے، وہ دوسرے لوگوں کی اصلاح کے لیے بپا کی گئی ہے اور اللہ نے ہمیں ایسے دین کی ہدایت عطا فرمائی جو دینِ کامل، شرعِ شامل، قولِ فیصل اور قضاے عدل ہے۔ جس نے اسے اپنا لیا، اس نے مقام و مرتبہ پالیا اور دنیا و آخرت کی سعادت و خوشی اس کا مقدر بن گئی اور جو اس سے پھر گیا، اسے شقاوت و بد بختی، قلق و اضطراب اور ضیق و تنگی نے آگھیرا۔ اسلام کے امتیازی اوصاف: اﷲ نے ہمیں ایسے دین کی ہدایت دی ہے جو دینِ قیّم ہے، جس کے آداب بڑے اعلیٰ اور تعلیمات بڑی عمدہ ہیں، جس میں فضائلِ اعمال اور مکارمِ اخلاق کی تعلیم ہے، جس کی حکمتیں بالغ ہیں اور دلائل قاطع ہیں، جس نے ہر خیر و بھلائی کی دعوت دی ہے اور ہر طرح کے شر و فساد سے منع کیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ﴿ وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾ [آل عمران: ۸۵] ’’اگر کسی نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو اختیار کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا آدمی آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔‘‘