کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 378
بے شک وہ لوگ جو میری عبادت (دعا) کرنے سے تکبر کرتے ہیں، وہ عنقریب رسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘ قضا و قدر: مسلمانو! اﷲ کے فیصلے اس کے بندۂ مومن کے لیے ایک عطیہ ہوتے ہیں، اگرچہ وہ منع کی صورت ہی میں کیوں نہ ہوں، اور اس کے لیے نعمت ہوتے ہیں اگرچہ وہ ابتلا و امتحان کی شکل ہی میں کیوں نہ ہوں۔ اس کی بلا و آزمایش بندۂ مومن کے لیے عافیت کا باعث ہوتی ہے، اگرچہ وہ کسی مصیبت کی شکل ہی میں کیوں نہ ہو۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’میں کسی فرحت و سرور میں نہیں ہوں، ہاں قضا و قدر کے مواقع کا انتظار رہتا ہے، اگر کوئی خوشی کا موقع آئے تو میرے پاس شکر ہے، اور اگر کوئی مشکل آئے تو میرے پاس صبر ہے۔‘‘[1] جسے دعا کرنا آتا ہو وہ قبولیت سے محروم نہیں رہ سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَا عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ مُسْلِمٌ یَدْعُوْ اللّٰہَ بِدَعْوَۃٍ إِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ إِیَّاھَا، أَوْ صَرَفَ عَنْہُ مِنَ السُّوْئِ مِثْلَھَا، مَالَمْ یَدْعُ بِاثْمٍ أَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ )) فَقَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَإِذاً نُکْثِرُ، قَالَ: (( اَللّٰہُ أَکْثَرُ )) [2] ’’روے زمین پر موجود کوئی بھی مسلمان جو بھی دعا کرے اور جو کچھ مانگے یا تو اﷲ اسے وہی دیتا ہے یا اس سے اسی کی مثل کوئی آنے والی مصیبت ٹال دیتا ہے، جب تک کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔‘‘ ایک صحابی نے کہا: تب تو ہم بہ کثرت دعائیں کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اﷲ کے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔ ‘‘ آدابِ دعا: جو لوگ اﷲ کے ساتھ ہی غیر اﷲ کو بھی پکارتے ہیں، وہ اپنے لیے قبولیت کے دروازے بند کر لیتے ہیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: [1] جامع العلوم والحکم لابن رجب الحنبلي (ص: ۱۹۵) [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۷۳)